صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 383 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 383

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۳ ۸۲- کتاب القدر وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا بے شک کرو جس متنفس کو خدا نے پیدا کرنا ہے وہ تو اُسے بہر حال پیدا کر کے رہے گا (بخاری كتاب القدر باب كَانَ أَمْرُ اللهِ قَدَرًا مقدورا) پس چونکہ عزل کا جواب بعض دوسری احادیث سے ثابت ہے اس لئے گو یہ حدیث بڑے بلند پایہ کی ہے مگر میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ بلاضرورت ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔اگر کوئی شخص بلا ضرورت ایسا کرتا ہے تو وہ و آدمخفی سے کام لیتا ہے یعنی وہ شخص جس کی عزل سے غرض نسل انسانی کا انقطاع ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم اور گنہگار ہے ورنہ اور کئی صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں عزل ہو سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص کی بیوی بیمار ہے۔وہ دوسری شادی کی توفیق نہیں رکھتا لیکن خود اُس میں خدا نے قوائے شہوانیہ پیدا کئے ہیں۔دوسری طرف ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گیا تو اس کی جان کا خطرہ ہو گا ایسی حالت میں نہ صرف عزل جائز ہو گا بلکہ اگر حمل ہو جائے تو اُس کا نکلوا دینا بھی جائز ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے کہ ایسی حالت میں اگر کوئی عورت حمل نہیں نکلواتی اور وہ مر جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خود کشی کرنے والی ہے۔آپ نے فرمایا ایسی حالت میں ضروری ہے کہ بچہ کو نکلوا دیا جائے کیونکہ بچہ کے متعلق تو ہمیں کچھ علم نہیں کہ اُس نے کیسا بننا ہے مگر ایک زندہ وجود ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اُس کی جان کی حفاظت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس کو بچایا جائے اور اس کے بچے کو تلف ہونے دیا جائے۔لیکن اگر کوئی خشیتہ اطلاق کی وجہ سے عزل کرتا یا حمل کو نکلواتا ہے تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔بہر حال عزل کے جواز یا عدم جواز کا فتولے عورت کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اگر ضرورت کے موقع پر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ جائز ہے۔اگر بلاضرورت کیا جاتا ہے تو نا پسندیدہ ہے اور اگر نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو حرام ہے۔مثلاً یورپ والے صرف نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کرتے ہیں اور چونکہ اس کے نتیجہ میں قوم تباہ ہوتی ہے اس لئے یہ فعل یقینا نا جائز اور حرام ہو گا۔اور اگر کوئی بلا ضرورت کرتا ہے تو وہ ایک مکروہ کام