صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 14 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 14

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۴ ۸۰ - كتاب الدعوات کی نشوو نما کرنے، انہیں ترقی دینے اور عظیم نتائج پیدا کرنے کا اس لئے جتنازیادہ استغفار ہو گا اتنا ہی زیادہ کمال ہو گا۔علامہ ابو حفص عمر بن علی المعروف ابن ملقن لکھتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استغفار کر کے اپنی اُمت کو اپنے عمل سے اس کی تاکید کی ہے اور بتایا ہے کہ ہمیشہ خدا کے حضور خضوع و خشوع اختیار کریں اور عبودیت کا حق ادا کریں اور اپنی تقصیروں کا اعتراف کر کے ان کے لئے مغفرت طلب کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر نقص سے پاک تھے۔امام غزالی نے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتے رہتے تھے اور جب آپ کم درجہ کے حال کو دیکھتے تو اپنے بلند مقام کے اعتبار سے اس پر استغفار فرماتے۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحه ۱۲۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” استغفار کی تعلیم جو نبیوں کو دی جاتی ہے اس کو عام لوگوں کے گناہ میں داخل کرنا عین حماقت ہے۔بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ لفظ اپنی نیستی اور تذلل اور کمزوری کا اقرار اور مدد طلب کرنے کا متواضعانہ طریق ہے۔سو اس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا گیا کہ اس دین کے لئے غم مت کھا۔خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے گا اور ان بلاؤں کو روک دے گا جو کسی ضعف کے وقت عائد حال ہو سکتی ہیں۔اکثر نادان عیسائی مغفرت کی سچی حقیقت نہ دریافت کرنے کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو شخص مغفرت مانگے وہ فاسق اور گنہ گار ہوتا ہے مگر مغفرت کے لفظ پر خوب غور کرنے کے بعد صاف طور پر سمجھ آجاتا ہے کہ فاسق اور بد کار وہی ہے جو خد اتعالیٰ سے مغفرت نہیں مانگتا۔کیونکہ جبکہ ہر یک سچی پاکیزگی اسی کی طرف سے ملتی ہے اور وہی نفسانی جذبات کے طوفان سے محفوظ اور معصوم رکھتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے راستباز بندوں کا ہر یک طرفۃ العین میں یہی کام ہونا چاہیئے کہ وہ اس حافظ اور عاصم حقیقی سے مغفرت مانگا کریں۔اگر ہم جسمانی عالم میں مغفرت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ مغفرت اس مضبوط اور نا قابل بند کی طرح ہے جو ایک طوفان اور سیلاب کے روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے۔پس چونکہ تمام زور تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے لئے مسلم ہیں اور انسان جیسا کہ جسم کے رو سے کمزور ہے روح کے رو سے بھی ناتوان ہے اور اپنے شجرہ پیدائش کے لئے ہر یک وقت التوضيح لشرح الجامع الصحيح، جزء ۲۹ صفحہ ۱۹۰)