صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 381
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۱ -Ar - كتاب القدر رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا إِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا نہ کرو تب بھی تمہیں کچھ حرج نہیں۔کیونکہ جو تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ الله جان بھی اللہ نے مقرر کر دی ہے کہ وہ پیدا ہو تو أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ۔وہ ضرور ہو کر رہے گی۔أطرافه : ۲۲۲۹، ٢٥٤۲ ، ٤١٣٨، ٥٢١٠، ٧٤٠٩۔٦٦٠٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ :۶۲۰۴ موسیٰ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے اعمش نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت قَالَ لَقَدْ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا تَرَكَ فِيهَا شَيْئًا کہا : بي صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخاطب کر کے إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ۔عَلِمَهُ ایک ایسی تقریر فرمائی کہ جس میں آپ نے کوئی مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ إِنْ كُنْتُ بات بھی نہیں چھوڑی جو اس گھڑی کے قائم لَأَرَى الشَّيْءَ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَعْرِفُهُ كَمَا ہونے تک ہونے والی تھی مگر آپ نے اس کا ذکر کر دیا اس کو سمجھ گئے جو سمجھ گئے اور اسے نہ سمجھا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِذَا غَابَ عَنْهُ جنہوں نے نہ سمجھا۔کسی بات کو میں سمجھتا کہ میں بھول گیا ہوں تو پھر میں اسے پہچان لیتا۔اسی طرح جس طرح پر کوئی شخص کسی کو پہچانتا ہوتا فَرَآهُ فَعَرَفَهُ۔ہے جب وہ اس سے غائب ہو اور پھر اسے دیکھ کر پہچان لیتا ہے۔٦٦٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۶۶۰۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بن ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے ، اعمش نے سعد عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عبیدہ سے، سعد نے ابو عبد الرحمن سلمی سے، السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت