صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 380
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۰ ۸۲ - کتاب القدر حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عاصم (بن أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ كُنْتُ سلیمان) سے، عاصم نے ابو عثمان سے، ابو عثمان عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نے حضرت اسامہ سے روایت کی۔اُنہوں نے جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ وَعِنْدَهُ کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے سَعْدٌ وَأَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذْ أَنَّ ابْنَهَا میں آپ کے پاس آپ کی ایک بیٹی کا قاصد آیا کہ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهَا لِلَّهِ مَا اُن کا بیٹا نزع کی حالت میں ہے۔اور اس وقت أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى كُلُّ بِأَجَلٍ آپ کے پاس حضرت سعد بن عبادہ)، حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ بن جبل) بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ان کو کہلا بھیجا۔اللہ ہی کے لئے ہے جو وہ لے اور اللہ ہی کے لئے ہے جو وہ دے۔ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہے اس لئے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ کی رضا مندی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔حاصل کرے۔أطرافه : ١٢٨٤، ٥٦٥٥، ٦٦٥٥، ٧٣٧٧، ٧٤٤٨- ٦٦٠٣: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى :۶۶۰۳ حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔یونس (بن الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ یزید نے ہمیں خبر دی۔یونس نے زہری سے، زہری نے کہا: مجھے عبد اللہ بن میریز جمجمی نے مُحَيْرِيزِ الجُمَحِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری نے انہیں بتایا کہ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ وہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوتے تھے اتنے میں ایک انصاری شخص آیا اور جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا کہنے لگا: یارسول اللہ ! ہمیں قیدی (عورتیں) ملتی رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ ہیں اور ہم مال پسند کرتے ہیں تو آپ کی عزل الْمَالَ كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ کرنے کے متعلق کیا رائے ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ