صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 379
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲- کتاب القدر ما مِنْ مَوْلُودِ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ : کوئی بھی ایسا بچہ نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہو تا ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ تو فطرۃ صحیحہ پر پیدا ہو تا ہے مگر اس کے والدین اس کے بچپن سے فائدہ اٹھا کر اسے اپنے دین پر کر لیتے ہیں اور اسے یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنالیتے ہیں گویاوہ ان کی فطرتی ہدایت کو قربان کر دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں اسے گمراہی خرید دیتے ہیں۔یا پھر وہ بڑا ہو کر خود اپنی اچھی طاقتوں کو بُرے طریق پر استعمال کر کے خراب کر لیتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے اسے جرآت عطا کی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اس سے کسی کی مدد کرے وہ ظلم کرنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اور اچھے جو ہر جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کئے ہیں بُرے استعمال کی وجہ سے ضائع کر دیتا ہے۔پس اس جگہ ہدایت سے وہ فطرتی نیک طاقتیں مراد ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت أوليك الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّللَةَ، جلد اول صفحه ۱۸۶) بَاب ٤ : وَكَانَ أَمْرُ اللهِ قَدْرًا مَّقْدُورَا (الأحزاب: ٣٩) اور اللہ کا امر ایک ایسا اندازہ ہے جس کے حدود مقرر ہو چکے ٦٦٠١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۶۰۱: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو زناد سے ، ابو زناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرغ عليه وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِرَ کا سوال نہ اُٹھائے تا کہ اس کی رکابی بھی اپنی رکابی میں انڈیل لے اور وہ نکاح کر لے کیونکہ اس کے لئے وہی ہے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا۔لَهَا۔أطرافه : ٢١٤٠ ، ۲۱٤٨، ۲۱۵۰، ۲۱۰۱، ۲۱۶۰، ۲۱۶۲ ، ۲۷۲۳ ٢٧٢٧، ٥١٤٤ ٥١٥٢۔٦٦٠٢ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۶۰۲: مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ