صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 378
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۸ ۸۲ - کتاب القدر پہلے یہ انکشاف آپ پر ہو چکا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہجرت سے ایک سال بعد ہوئی ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نو سال قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ انکشاف ہو چکا تھا اور جب اس کی طرف سے انکشاف ہو چکا تھا تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کس طرح ایسی بات کہہ سکتے تھے جو اس انکشاف کے خلاف ہوتی۔پس یہ جواب بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔بہر حال جہاں تک احادیث کا تعلق ہے وہ ہمیں ایک دوسری سے ٹکراتی ہوئی ملتی ہے اور جب وہ ایک دوسری سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی ہیں تو ہمیں قرآن شریف کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور غور کرناچاہیے کہ اس بارہ میں وہ کیا تعلیم پیش کرتا ہے کیونکہ قرآن شریف وہ کلام ہے جو خدا تعالیٰ نے نازل کیا اور جسے بغیر کسی خطرہ کے ہم قبول کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔بے شک حدیثوں میں سے بعض ایسی ہیں جو صحاح میں آئی ہیں اور وہ بڑے پایہ کی ہیں مگر بہر حال حدیثوں میں یا تو خلط ہو گیا ہے اور یا پھر وضا عین نے وضع کی ہیں اس لئے ہم اس مسئلہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے قرآن شریف کی طرف توجہ کرتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ بِظَلامِ لِلْعَبِيدِ (آل عمران: ۱۸۳) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور جب وہ ظلم نہیں کرتا تو یہ کس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ بچوں کو بغیر قصور کے دوزخ میں داخل کر دے گا۔وہ شخص جس نے کوئی فعل کیا ہی نہیں اور جو مکلف ہی نہیں ہوا اس کو سزا دینا تو قطعی طور پر ظلم ہے، دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا کہ ہم بغیر بعثت رسول کے لوگوں کو عذاب نہیں دیا کرتے محدثین نے بھی اس آیت سے استدلال کر کے بچوں کو بری قرار دیا ہے۔پس ایک طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتے اور دوسری طرف یہ فرمانا کہ جب تک ہم رسول بھیج کر لوگوں پر اپنی حجت تمام نہ کرلیں ان کو اپنے عذاب میں مبتلا نہیں کرتے بتلا رہا ہے کہ بچے عذاب کے مورد نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ انہوں نے کوئی جرم کیا اور نہ ان کی طرف بعثت رسول ہوئی۔“ ( تفسیر کبیر، سورة الكتوير، زیر آیت وَإِذَا المَودَةُ سُبِلَتْ جلد ۸ صفحه ۲۱۲ تا ۲۱۹)