صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 377 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 377

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۷ -Ar - كتاب القدر صحیح ہوں تو اس مسئلہ کو کسی قدر مشتبہ کر دیتی ہیں۔جن میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت خدیجہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے دو بچے جو جاہلیت میں مر گئے تھے اُن کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا وہ دوزخ میں ہیں۔پس یہاں سوال پیدا ہوتا ہے که اگر مومنوں کے بچے بہر صورت جنت میں جائیں گے تو حضرت خدیجہ کے ایک سوال کے جواب میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا کہ وہ دونوں بچے دوزخ میں ہیں۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب آپ نے ایک انصاری بچے کے متعلق فرمایا کہ اس کا انجام بڑا مبارک ہوا ہے وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا تھی۔تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَوْ غَيْرَ ذَالِكَ یا شاید وہ دوزخی ہو اور پھر یہ دلیل بھی دی کہ إن الله تَعَالَى خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ أَبَاءِ هِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ ابَاءِ ھم جب تک اِن دونوں حوالوں کو ہم حل نہ کر لیں اُس وقت تک کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت کہ بعض لوگ جنت کے لئے پیدا کر دیئے گئے ہیں اور بعض لوگ دوزخ کے لئے ، درست ہے، تو ہم ایک مومن کے بچہ کے متعلق بھی یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ جنتی ہے یا دوز خی۔اور اس طرح سارا استدلال باطل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں محدثین نے اس کے یہ معنے گئے ہیں کہ یہ پہلے کی بات ہو گی۔جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر ابھی انکشاف حقیقت نہیں ہوا تھا جب انکشاف ہو گیا تو آپ نے اپنے عقیدہ کو بدل دیا۔مگر اس میں ایک اور مشکل یہ پیش آجاتی ہے کہ حدیثوں میں ہی ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بچوں کو لے کر ایک جگہ جنت میں بیٹھے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ ان بچوں میں مشرکین کے بچے بھی تھے۔یہ واقعہ معراج سے تعلق رکھتا ہے اور معراج کی حدیث شنہ بعد دعویٰ نبوت کی ہے گویا ہجرت سے آٹھ سال