صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 376 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 376

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۶ ۸۲ - كتاب القدر لئے ان سوالات کے بعد ان کو مٹی کر دیا جائے گا جیسے جانوروں کو اُن کا حق دلانے کے بعد فنا کر دیا جائے گا۔ حضرت امام احمد صاحب سرہندی نے امام سیوطی کی آخری رائے کی تائید کی ہے کہ بچے زندہ تو ہوں گے مگر پھر انہیں فنا کر دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے بچوں کو جنتی قرار دیا ہے اُن میں اِسبات پر بحث ہوئی ہے کہ بچے جو جنتی ہوں گے تو آخر کسی استحقاق کے ماتحت تو نہیں ہوں گے کیوں کہ انہوں نے کوئی عمل نہیں کیا ہو گا پھر جنت میں اُنہیں کیوں رکھا جائے گا۔ اس پر بعض کہتے ہیں کہ یہ خدا کی دین ہے وہ جس طرح چاہے کرے اس میں کسی انسان کو دخل دینے کا کیا حق ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ جنت میں خدام کے طور پر ہوں گے اور ماں باپ اُن کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے پس وہ وہاں بطور استحقاق کے نہیں جائیں گے بلکہ کام اور خدمت کے لئے جائیں گے۔ اسی طرح مسند احمد بن حنبل میں ایک روایت آتی ہے جس کی آخری رادیہ ایک عورت ہیں یعنی خنساء کی بچی یا پھر بھی ان سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ في الجنَّةِ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ جنت میں کون کون جائے گا؟ قَالَ النَّبِيُّ في الجَنَّةِ آپؐ نے فرمایا نبی جنت میں جائے گا والشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ اور شہید جنت میں جائے گا وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ اور چھوٹا بچہ بھی جنت میں جائے گا وَالْمَوْدَةُ فِي الْجَنَّةِ اور مؤؤدہ بھی جنت میں جائے گی۔ اس طرح ابن ابی حاتم نے حسن سے مرسل روایت کی ہے قِيلَ يَارَسُولَ اللهِ مَنْ فِي الْجَنَّةِ قَالَ الْمَوْدَةُ فِي الْجَنَّةِ۔ آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ جنت میں کون جائے گا ؟ آپ نے فرمایا موادہ جنت میں جائے گی۔ اسی طرح ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے بھی یہ روایت کی ہے کہ أَطْفَالُ الْمُشْرِكِينَ فِي الْجَنَّةِ فَمَنْ زَعَمَهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ فَقَدْ كَذَبَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَ إِذَا الْمَوْعَدَةُ سُبِلَتْ بِأَتِي ذَنْبٍ قُتِلَت یہ وہ پرانے اقوال ہیں جو مومنوں اور مشرکوں کے بچوں کے متعلق ہمیں احادیث اور آئمہ سابقین کی کتب میں سے ملتے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ مومنوں کے بچوں کے جنت میں جانے کے متعلق قریبا قریباً تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ صرف دو حدیثیں ایسی ہیں کہ اگر وہ