صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 375
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۷۵ ۸۲ - كتاب القدر چکی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے متعلق فرمایا واللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ یہی استدلال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان الفاظ میں ابہام سے کام لیا گیا ہے آخری نتیجہ بیان نہیں کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اگر انہیں تبلیغ پہنچتی تو وہ کیا کرتے یعنی اس وقت انہوں نے جو جو اعمال کرنے تھے وہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ جانتا ہے کہ اُن کا انجام کیا ہوتا۔ پس اس حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اُن کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے بلکہ حدیث اپنے الفاظ کے ذریعہ اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ ان کو موقع ملنے پر جو کچھ انہوں نے کرنا تھا اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اس جواب کو ترجیح دی ہے۔ اس خیال کی ان احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے کہ پاگل، فاتر العقل اور وہ بڑھے جن کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے اُن کی طرف اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں دوبارہ نبی مبعوث کرے گا۔ امام سیوطی نے بھی اسی خیال کو ترجیح دی ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک اور خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ بچوں کا حشر تو ہو گا لیکن بچہ چونکہ مکلف نہیں اس لئے وہ کہتے ہیں مشرکین کے بچے زندہ تو کئے جائیں گے لیکن پھر جانوروں کی طرح مٹی کر دیئے جائیں گے۔ اس استدلال پر وہ وَ إِذَا الْمَوْدَةُ سُبِلَتْ والی آیت سے ہی مجبور ہوئے ہیں کیونکہ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ موادۃ کے بارہ میں سوال کیا جائے گا اور یہ سوال اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُسے زندہ نہ کیا جائے پس وہ اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ بچوں کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اُن کے بارہ میں مجرموں سے دریافت کیا جائے گا کہ انہوں نے اُن کو کس قصور کی بناء پر زندہ درگور کیا تھا۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک بکری جس نے دوسری بکری کو دنیا میں سینگ مارا ہو گا قیامت کے دن ان کو بھی زندہ کیا جائے گا اور جسے سینگ مارا گیا ہو گا اُسے کہا جائے گا کہ وہ دوسری کو سینگ مارے۔ پس وہ اس آیت سے یہ بات ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ بچوں کا بھی حشر ہو گا مگر وہ کہتے ہیں چونکہ بچے اپنی ذات میں جنت کے مستحق نہیں ہوں گے اس