صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 13 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 13

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۳ ۸۰ - كتاب الدعوات بہت ہوگی، اولاد کی کثرت ہوگی ، باغ ہوں گے ، نہریں جاری ہوں گی۔ان آیات سے استغفار کی فضیلت ظاہر ہے۔استغفار کیا ہے؟ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پچھلے گناہوں کی سزا سے بچنے کی توفیق طلب کرنا۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۲۱۵) نیز فرمایا: روایت ہے کہ ایک دن حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص گیا اور قحط کی شکایت کی۔آپ نے اسے فرمایا کہ استغفار کرو۔پھر ایک اور شخص گیا۔اُس نے کہا: یا حضرت ! میں محتاج ہوں، فرمایا: استغفار کرو۔ایک تیسرے نے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی۔اُسے بھی استغفار کرنے کا حکم دیا۔چوتھے نے پیداوار زمین کی کمی کا گلہ کیا۔اُسے بھی استغفار کی تاکید فرمائی۔حاضر مجلس ربیع بن صبیح نے عرض کی کہ آپ کے پاس مختلف لوگ آئے اور مختلف چیزوں کے سائل ہوئے مگر آپ نے جواب سب کو ایک " ہی دیا۔اس کے جواب میں حسن بصری نے قرآن شریف کی یہی آیات پڑھیں۔حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۱۵) باب ۳: اسْتِغْفَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دن اور رات میں استغفار کرنا ٦٣٠٧: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۳۰۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ أَبُو انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے خبر هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ دی۔ابو سلمہ نے کہا: حضرت ابوہریرۃ نے بیان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سنا۔آپ فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میں تو ہر روز ستر بار سے بھی زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں سَبْعِينَ مَرَّةً۔اور اس کے حضور تو بہ کرتا ہوں۔تشریح: اسْتِغْفَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ: نبی صلی اللہ علیہ وسلمکا : دن اور رات میں استغفار کرنا۔استغفار نام ہے بشری کمزوریوں کے ڈھانپنے ، بشری استعدادوں