صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 366 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲ - کتاب القدر اگر اسے لام سبی سمجھا جائے تو یہ معنے دوسری آیت کے خلاف ہیں۔فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔اللہ نے تو بندے عبادت کے لیے پیدا کیے ہیں اور عبد کا انجام تو جنت قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۳۱) اور آمیری جنت میں بھی داخل ہو جا۔پس وَ لَقَد ذَرَ انَا لِجَهَنَّمَ کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا جنت کے لیے مگر بجائے جنتی بننے کے وہ دوزخ کے مستحق ہو گئے۔اس آیت سے بھی غلط نتیجہ نکالتے ہیں۔فرماتا ہے: وَان تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيْنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَمَالِ هؤلاء الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا (النساء:۷۹) اور اگر انہیں (یعنی مذکورہ بالا لوگوں کو) کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے تو کہہ دے (کہ) سب (کچھ ) اللہ (ہی) کی طرف سے ہے پس ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے سمجھنے کے قریب (تک) نہیں جاتے۔کہتے ہیں دیکھو اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بھلائی برائی خدا کی طرف سے آتی ہے۔دراصل یہاں نتیجہ بتایا گیا ہے کہ ہر فعل کی سزا یا جزا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔اس آیت میں اعمال کا ذکر ہی نہیں بلکہ دُکھ اور سکھ کا ذکر ہے۔دُکھ اور سکھ بلحاظ نتائج کے خدا کی طرف سے آتے ہیں۔پھر یہ آیت قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلى مَضَاجِعِهِمْ (آل عمران : ۱۵۵) تو کہہ دے (کہ) اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) رہتے تو بھی جن لوگوں پر لڑائی فرض کی گئی ہے وہ اپنے ( قتل ہو کر لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل کھڑے ہوتے۔اس جگہ بھی جزا کا ذکر ہے اعمال کا نہیں ہے مگر دراصل اس جگہ کتب کے معنے مقدر ہونے کے نہیں بلکہ فرض کیے جانے کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ مدینہ تو کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے اگر قلعوں کی حفاظت ہوتی اور مسلمانوں کو باہر نکل کر حملہ کرنے کا حکم ہو تا تب بھی ان کو یہ بات بری نہ لگتی وہ اور شوق سے اپنے فرض کو ادا کرتے۔علم الہی اور مسئلہ تقدیر کا خلط: خدا تعالیٰ کا ایک نام علیم اور ایک قدیر ہے اگر علم الہی اور تقدیر ایک ہی بات ہے تو خد اتعالیٰ کے یہ دو نام علیحدہ علیحدہ کیوں ہیں۔دراصل دو الگ الگ باتیں ہیں۔چور چوری اس لیے نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ چوری کرے بلکہ خدا تعالٰی کو اس بات کا علم اس لیے ہوا کہ چور نے چوری کرنی تھی جیسے ہمارے سامنے کوئی یہ بیان کرے یا اس کی باتوں سے ہمارے علم میں یہ بات آئے کہ وہ کسی کو قتل کرنے جارہا ہے تو اس کا فعل ہمارے علم کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارا علم اس کے فعل کی وجہ سے ہے۔اس پر سوال اٹھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو جب کسی مجرم کے جرم کا علم ہوتا ہے تو وہ اسے کیوں نہیں روکتا جیسے ہم قاتل کے ارادے کو جاننے کے باوجود اسے نہ روکیں یا مقتول کو نہ بتائیں تو ہم بھی اخلاقاً اس جرم میں شامل ہوتے ہیں مگر یہاں یہ مثال غلط ہے اصل مثال کمرہ امتحان کی ہے جب انسان اپنے اعمال میں بااختیار ہے تو اس کا امتحان ہے جس پر جزا سزا ملے گی۔اگر ممتحن بتادے تو طالبعلم کو کس بات کا انعام ملے گا۔