صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 365 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 365

۳۶۵ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲ - کتاب القدر دہریت آئی پھر اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہودیوں میں نجات خاص کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔اور مسلمانوں میں ایک طرف اباحت اور دوسری طرف ذلت و نکبت آئی۔چنانچہ قرآن کریم مختلف اقوام کی گمراہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَديم (الأنعام : ۹۲) اُن لوگوں نے اللہ کی صفات کا اندازہ اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے تھا۔تو تمام مذاہب کی حقیقت اور اصلیت سے پھر جانے کی یہی وجہ ہے کہ ان کے پیروؤں نے صفات الہیہ کے ظہور کے مسئلہ کو یعنی تقدیر کو صحیح طور پر نہ سمجھا۔جو لوگ تقدیر کو نہ سمجھے ان میں سے بعض نے اس مسئلہ کی بنیاد ہندوستان کے فلسفیوں کے عقائد پر رکھی یعنی وحدت وجود پر، بعض نے یونانی فلسفہ پر اور بعض نے دہریت پر۔ایک گروہ نے کہا جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ خدا ہی کراتا ہے بندہ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔دوسروں نے کہا جو کچھ انسان کرتا ہے اس میں خدا کا کوئی دخل نہیں سب کچھ بندے کے اختیار میں ہے اس عقیدے کی بنیاد فلسفہ کیونان پر تھی۔مسلمانوں کے ایک طبقہ نے ان دونوں فلسفوں پر تقدیر کے مسئلہ کی بنیاد رکھی اور اپنی دانست میں اس کی تائید بعض آیات قرآن سے لی۔حالانکہ اُنہوں نے قرآن کے بیان کے ایک پہلو کو لیا اور دوسرا چھوڑ دیا۔مثلاً یہ کہ جو کچھ انسان کرتا ہے وہ خدا کراتا ہے۔انسان کا کوئی اختیار نہیں۔اس کی تائید میں وہ یہ آیت پیش کرتے ہیں۔فرماتا ہے: وَاللهُ خَلَقَكُم وَمَا تَعْمَلُونَ (الصافات: ۹۷) کہ اللہ نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی۔حقیقت یہ ہے کہ وہ آدھی بات کو لے رہے ہیں اس سے پہلی آیت میں اس کی کنجی ہے: قال اتعبدُونَ مَا تَنْحِتُونَ (الصافات (۹۶) (ابراہیم نے ان سے) کہا کیا تم اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے (بتوں) کی پوچا کرتے ہو۔ان دونوں آیتوں کو ملا کر مضمون مکمل ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کیا تم لوگ اس چیز کی پوجا کرتے ہو جس کو خود اپنے ہاتھ سے خراد تے ہو حالانکہ اللہ تعالٰی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اس چیز کو بھی جسے تم بناتے ہو یعنی بتوں کو۔ما عَمَلَكُمْ کے معنے ہیں مَعمُولُكُمْ یعنی جو چیز تم بناتے ہو۔دوسری آیت جس کے غلط معنے کر کے تقدیر کے مسئلہ کو نہیں سمجھے یہ ہے۔فرماتا ہے: قُل لَّن تُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلنَا وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ) (التوبۃ: ۵۱) کہ ہمیں نہیں پہنچے گا کچھ بھی مگر وہی جو اللہ نے لکھ چھوڑا ہے اللہ تعالیٰ ہی ہمارا مولیٰ ہے اور اسی پر توکل کرتے ہیں مؤمن۔اس آیت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب خدا کہتا ہے انسان کو وہی ملتا ہے جو پہلے سے اس کے لیے لکھ چھوڑا ہے تو پھر انسان کا کیا اختیار ہے حالانکہ بات بالکل اور ہے۔اس آیت کو بھی سیاق و سباق سے ہٹا کر وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔سیاق و سباق یہ ہے کہ اس جگہ کفار کے ساتھ جنگ کا ذکر ہے اور کتب سے مراد وہ خد اتعالیٰ کا وعدہ ہے: كتب الله لأَلِينَ أَنَا وَرُسُلِى (المجادله : ۲۲) اللہ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔پس اس آیت میں کتب سے مراد انسانی اعمال نہیں بلکہ رسول اور مؤمنوں کی فتح مراد ہے۔اس آیت سے بھی غلط نتیجہ نکالتے ہیں فرماتا ہے : ولقد ذَرَ أَنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنَّ وَالْإِنسِ (الأعراف: ۸۰) کہتے ہیں دیکھو خدا کہتا ہے میں نے جہنم کے لیے بہت سے جن و انس پیدا کیے ہیں پس جب خدا نے بہت سے جن و انس کو پیداہی جہنم کے لیے کیا ہے تو ان کو برے کاموں سے کون روک سکتا ہے۔اس آیت کو بھی غلط سمجھا ہے یہاں حرف لام، لام العاقبہ ہے