صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 364
صحیح البخاری جلد ۱۵ بسم الله الرحمن الرحيم ۸۲- كِتَاب الْقَدَرِ ۸۲ - كتاب القدر کتاب القدر میں امام بخاری نے ۱۶ ابواب اور ۲۹ مرفوع احادیث بیان کی ہیں ان میں سے ۲۲ مکررات ہیں۔۲۹ میں سے ۲۷ متفق علیہ ہیں۔یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں بیان ہوئی ہیں۔احادیث کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے ۵ آثار بیان ہوئے ہیں۔(فتح الباری، جزءا اصفحہ ۶۲۸) قدر کیا ہے ؟ قدر خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کا نام ہے۔اس لیے ایمان باللہ میں ہی قدر پر ایمان لانا آگیا۔اللہ پر ایمان لانے کے لیے یہ ضروری ہے اول اللہ کی ذات پر ایمان لایا جائے (۲) صفات الہی پر ایمان لایا جائے (۳) صفات کے ظہور پر ایمان لایا جائے۔اس تیسری شق کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدر نام رکھا ہے۔ایک طرف قدر کے ایمان کے بغیر کوئی مومن نہیں ہو سکتا جیسا کہ آپ نے فرمایا: لا يُؤْ مِنْ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِي مَنْ لَمْ يؤمن بالقدر خيره وشره فأنا بريء منه " دوسری طرف قدر کے متعلق ایک مشکل بات بیان فرمائی کہ اس کے متعلق فکر کرنا اور تنازع کرنا انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ قضاء و قدر کے مسئلہ کے متعلق بیٹھے جھگڑ رہے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ہماری باتوں کو سن کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور یوں معلوم ہوتا تھا گویا آپ کے منہ پر اتار کے دانے توڑے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا خدا نے مجھے اسی غرض سے بھیجا ہے ؟ پہلی تو میں صرف قضاء و قدر کے مسئلہ پر جھگڑا کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ اس امر میں جھگڑا اور بحث کرنا چھوڑ دو۔ہم اسی طرح ایک حدیث میں ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: میں نے رسول کریم سے سنا ہے آپ کی امت میں سے بعض پر عذاب آئے گا اور یہ قدر پر بحث کرنے والے لوگ ہوں گے۔کے پس مسئلہ تقدیر کے متعلق ہمیں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور سوچنا چاہیئے کہ شریعت نے جب اس مسئلہ میں جھگڑنے سے منع کیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟ جس بات سے منع کیا گیا ہے وہ اس مسئلہ کی تحقیق نہیں بلکہ اس مسئلہ کو شریعت کے بغیر حل کرنا ہے اور یہ بات واقع میں ایسی ہی ہے کہ اس کا نتیجہ دہریت ہے کیونکہ عقل شریعت کی رہبری کے بغیر اس مسئلہ کو نہیں سمجھ سکتی۔جن لوگوں نے اس مسئلہ کو عقل کے ذریعہ حل کرنا چاہا وہ بڑی بڑی خطر ناک گمراہیوں کا شکار ہوئے۔چنانچہ ہندوؤں میں تناسخ کا مسئلہ تقدیر ہی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا اور عیسائیوں میں کفارہ کا مسئلہ اسی کے نہ جاننے کی وجہ سے بنایا گیا۔اسی طرح قدر ہی کے مسئلہ کو نہ جاننے کی وجہ سے یورپ کے موجودہ سائنسدانوں میں (سنن الترمذى أَبْوَابُ الْقَدَرِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِهِ) (كنز العمال الفصل السادس في الإيمان بالقدر ، روایت نمبر ۴۸۵) (سنن الترمذى أَبْوَابُ الْقَدَرِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي الخَوْضِ فِي القَدَرِ ) ہے (سنن الترمذى أَبْوَابُ الْقَدَرِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالقَضَاءِ)