صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 12
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات بشریت کی عمارت بنائی ہے وہ عمارت مسمار نہ ہو اور قائم رہے اور بغیر خدا کے سہارے کے کسی چیز کا قائم رہنا ممکن نہیں۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ الله لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة: ۲۵۲) یعنی خدا ہی ہے جو قابل پرستش ہے کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے۔یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے اسی کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۵) یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسانہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنی یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعا خدا سے طاقت طلب کرتی ہے جیسا کہ بچہ ماں سے دودھ طلب کرتا ہے پس جیسا کہ خدا نے ابتد ا سے انسان کو زبان آنکھ دل کان وغیرہ عطا کئے ہیں ایسا ہی استغفار کی خواہش بھی ابتدا سے ہی عطا کی ہے اور اس کو محسوس کرایا ہے کہ وہ اپنے وجود کے ساتھ خدا سے مد د پانے کا محتاج ہے۔“ ( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۷۱ تا ۶۷۳) اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَاراً : سورہ نوح کی ان آیات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر تم استغفار کرو تو سب برکتیں حاصل ہوں گی۔گناہ بخشے جائیں گے ، بارش ہو گی، ہر شے ارزاں ملے گی، مال و دولت