صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 362
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۶۲ ۸۱ - كتاب الرقاق الكوثر (بخاری، ابواب التفسیر ) یعنی میں ارتقاء کرتے کرتے جنت میں ایک مقام پر پہنچا جہاں مجھے ایک نہر نظر آئی جس کے کنارے کھو کھلے موتیوں کے بنے ہوئے گنبدوں کی مانند تھے میں نے جبریل سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے ؟ جبریل نے کہا کہ یہ کوثر ہے۔ احادیث میں کوثر کے معنے جو مهر في الجَنَّةِ کے کیے گئے ہیں یہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اس لیے اُن کا انکار نہیں کیا جا سکتا گو زیادہ تر روایات حضرت انس بن مالک سے آتی ہیں لیکن بعض احادیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہیں۔“ نیز آپ نے فرمایا: ( تفسير كبير سورة الكوثر ، زير آيت انا اعطينك الكوثر جلد ۱۰ صفحه ۲۳۳ تا ۲۳۵) بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھی جاتی ہے حضرت ابن عباس سے ایک روایت آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں قَالَ فِي الكَوْثَرِ : هُوَ الخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إياه (بخاری، کتاب التفسیر ) یعنی کوثر سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی بھلائیاں ہیں جو اس دنیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی تھیں۔ دیکھو حضرت ابن عباس بھی تسلیم فرماتے ہیں کہ جو معنے میں نے اوپر کیے ہیں وہی درست ہیں جب دنیا میں آپ کو اس قسم کی کوئی چیز ملے گی تبھی وہ اگلے جہان میں نہر کی شکل میں متمثل ہو کر آپ کو عطا ہو گی۔ اسی طرح بخاری میں آتا ہے کہ ابو البشر نے ایک دفعہ حضرت سعید بن جبیر سے جو اعلیٰ درجہ کے تابعی اور علم حدیث کے بہت بڑے ماہر تھے کہا کہ فَإِن نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ - آپ تو ہمیں سنا رہے ہیں کہ وہ تمام اعلیٰ درجہ کی بھلائیاں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں ملیں اُن کا نام کو ثر ہے۔ لیکن لوگ کہتے ہیں کہ کو ثر جنت کی ایک نہر ہے یہ کیا بات ہے ؟ سعید بن جبیر نے جواب دیا الشَّهْرُ الَّذِي فِي الجَنَّةِ مِنَ الخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ (بخاری، ابواب التفسیر ) وہ نہر جو جنت میں آپ کو ملے گی وہ بھی تو اسی کا ایک حصہ ہے یعنی میں یہ نہیں کہتا کہ جنت کی وہ نہر جو آپ کو ملے گی کو ثر نہیں۔ بلکہ میں، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ