صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 361 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 361

صحیح البخاری جلد ۱۵ - كتاب الرقاق کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری۔آخرت میں بھی آپ کے حوض کوثر سے وہی سیراب ہو گا جس نے آپ سے محبت اور اطاعت کا رشتہ کبھی نہ توڑا اور اس تعلق کو بدعات کی آلودگی سے محفوظ رکھا۔زیر باب ان بد نصیب مرتدین کا بھی ذکر ہے جنہوں نے اگر چہ آپ کو حالت ایمان میں دیکھا تو "صحابی" کے مقدس نام سے موسوم ہوئے مگر اس عہد بیعت کی وفانہ کی آپ ان کو اپنے حوض کوثر سے اس طرح ہٹا دیں گے جیسے کوئی غیروں کے اونٹ اپنے حوض سے پیچھے ہٹا دیتا ہے ، پس آپ کی غلامی اور اطاعت جہاں ان تمام بھلائیوں کا وارث بنائے گی تو آپ کی بیعت کا ناطہ توڑ نا از لی بد بختی کا وارث بنائے گا۔جنت میں ملنے والا حوض کوثران انعامات میں سے ایک انعام ہے جو آپ کو اس دنیا میں بھی دیئے گئے اور آخرت میں بھی ملیں گے کیونکہ کو ثر محض ایک نہر یا حوض نہیں بلکہ تمام بھلائیوں اور انعامات کا نام کوثر ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو ثر سے متعلق فرماتے ہیں: الكَوْثَر کے معنے ہیں (۱) الْكَثِيرُ مِنْ كُلِ یمنی ، ہر چیز کا کسی کے پاس کثرت سے پایا جانا۔(۲) السَّيْدُ الكَثِيرُ الخَيْرِ قوم کا سردار جس کے اندر بڑی خیر اور برکت پائی جاتی ہو۔(۳) الرَّجُلُ الْكَثِيرُ الْعَطَاءِ وَالْخَيْرِ ایسا انسان جو بڑا سخی ہو اور دنیا میں بڑی کثرت سے نیکیاں پھیلانے والا ہو۔(۴) مهر في الجنة - کوثر ایک نہر کا بھی نام ہے جو جنت میں پائی جاتی ہے۔اقرب الموارد کے مؤلف نے جو کوثر کے ایک معنے مہر فی الجنة کے کیے ہیں یہ معنے لغت کے نہیں اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے جو لفظ کو شر عرب میں استعمال ہوتا تھا اس کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے بلکہ جب کو ثر کا لفظ قرآن کریم اور احادیث میں استعمال ہوا اور مسلمانوں نے بتایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہو گی تو عرب میں یہ معنے بھی رائج ہو گئے اور لغت والوں نے مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ان معنوں کو بھی کتب لغت میں درج کر دیا۔ورنہ اس لفظ کے اصل معنے وہی تین ہیں جو اوپر درج کیے گئے ہیں۔کوثر کے ان معنوں کی بنیاد کہ یہ جنت کی ایک نہر کا نام ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث پر ہے جو بخاری اور مسلم دونوں میں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: أَتيتُ عَلَى نَهْرٍ ، حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُهِ مُهَوَفٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا