صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 355
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۵۵ ۸۱ - كتاب الرقاق ٦٥٨٤: قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي :۶۵۸۴ ابو حازم نے کہا: نعمان بن ابی عیاش نے النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ هَكَذَا مجھ سے سنا اور پوچھا، کیا اس طرح تم نے حضرت سَمِعْتَ مِنْ سَهْلِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ سہل سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔نعمان نے کہا اور أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي میں حضرت ابو سعید خدری کے متعلق شہادت دیتا لَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَزِيدُ فِيهَا فَأَقُولُ إِنَّهُمْ ہوں کہ میں نے ان سے (یہ حدیث) سنی وہ اس مِنِّي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا میں اتنا بڑھاتے تھے کہ میں کہوں گا یہ لوگ مجھ بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ سے تعلق رکھتے ہیں۔تو کہا جائے گا: تو نہیں جانتا انہوں نے تیرے بعد کیا کچھ نئی نئی بدعات بَعْدِي۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ سُحْقًا کیں۔میں کہوں گا: وہ شخص مجھ سے دور ہو جائے بُعْدًا، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ، سَحَقَهُ وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ۔دور ہو جائے، جس نے میرے بعد ہی (دین کو) بدل دیا۔حضرت ابنِ عباس نے کہا سُخقا کے طرفه: ٧٠٥١۔معنے ہیں دوری۔سحیق جو کہا جاتا ہے اس سے مراد ہے بعید یعنی دوری۔سَحَقَهُ اور أَسْحَقَهُ کا مطلب ہے اُسے دور کیا۔٦٥٨٥ : وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ :۶۵۸۵: احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے کہا، سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے یونس سے ، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ وہ بیان کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میرے صحابہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَرِدُ عَلَيَّ يَوْمَ سے ایک جماعت میرے پاس آئے گی۔پھر وہ الْقِيَامَةِ رَهْطُ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجْلُوْنَ حوض سے دور کر دیئے جائیں گے۔میں عرض عَنِ الْحَوْضِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي کروں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابہ ہیں