صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 11 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 11

صحیح البخاری جلد ۱۵ 11 ۸۰ - كتاب الدعوات قدم پر اللہ تعالیٰ کی تائید اور سہارے کا محتاج ہے۔استغفار اسی سہارے کی طلب کا نام ہے۔اس لئے جتنا کوئی زیادہ استغفار کرے گا اتنا ہی وہ کامل ہوتا جائے گا۔پس جتنا بڑا کمال چاہیئے اتنا ہی بڑا استغفار چاہیئے۔زیر باب حدیث جامع دعا پر مشتمل ہے اسے سید الاستغفار کہا گیا ہے۔علامہ ابن ابی جمرہ کہتے ہیں: اس (دعا) میں بے مثال مفاہیم اور بہترین الفاظ کا انتخاب ایسا کیا گیا ہے کہ یہ سید الاستغفار کہلاتی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی الوہیت اور وحدت اور بندے کی عبودیت کا اقرار اور اس عہد کا اظہار ہے جو روحوں سے پیدائش کے وقت لیا گیا۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۱۲۱،۱۲۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔یہ لفظ غفر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سواس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قوی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے کیونکہ خدا کی خالقیت نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو خدا کی صورت پر بنایا۔پس اسی طرح خدا کی قیومیت نے تقاضا کیا کہ وہ اس پاک نقش انسانی کو جو خدا کے دونوں ہاتھوں سے بنایا گیا ہے پلید اور خراب نہ ہونے دے لہذا انسان کو تعلیم دی گئی کہ وہ استغفار کے ذریعہ سے اُس کی قیومیت سے قوت طلب کرے۔پس اگر دنیا میں گناہ کا وجود بھی نہ ہو تا تب بھی استغفار ہوتا کیونکہ در اصل استغفار اس لئے ہے کہ جو خدا کی خالقیت نے