صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 353
صحیح البخاری جلد ۱۵ رَضِيَ ۳۵۳ ۸۱ - کتاب الرقاق اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَدْرَ حَوْضِي که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ مِنَ الْيَمَنِ حوض اس قدر بڑا ہے کہ جتنا ایلہ" اور صنعاء وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ کے درمیان فاصلہ ہے جو یمن میں ہے اور اس میں اتنے آبخورے ہیں جتنے آسمان کے ستاروں السَّمَاءِ۔کی گنتی۔٦٥٨١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۵۸۱: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا علیہ وسلم سے روایت کی۔نیز ہد بہ بن خالد نے ہم قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَن سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے بیان کیا، حضرت انس بن مالک نے ہمیں بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بتایا۔حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرَ الْمُجَوْفِ روایت کی۔آپ نے فرمایا: میں جنت میں چلا جا رہا تھا اتنے میں میں اپنے آپ کو دریا کے کنارے پر دیکھتا ہوں اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد تھے۔میں نے پوچھا: جبریل! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو تمہارے رب نے تمہیں دیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی مٹی یا کہا اس کی خوشبو تیز مشک کی ہے۔ہدیہ نے شک قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ فَإِذَا طِيبُهُ - أَوْ طِينُهُ - مِسْكٌ أَذَفَرُ شَكٍّ هُدْبَةُ۔أطرافه : ٣٥٧٠، ٤٩٦٤، ٥٦١٠، ٧٥١٧- کیا کہ مٹی کہا یا خوشبو۔ایلہ شام کے راستے پر واقع ایک معروف شہر ہے جو مدینہ اور مصر کے درمیان بحر قلزم کے ساحل پر ہے۔( فتح الباری، جزء ۲ صفحہ ۴۹۰)