صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 349 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 349

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۴۹ ۸۱ - كتاب الرقاق مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِكَ الرَّجُلُ گا کہ وہ اس سے اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگے گا آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا ۔ أطرافه : ٨٠٦ ، ٧٤٣٧- اور وہ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا۔ جو کچھ کہ اس میں ہو گا، جب وہ دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔ پھر اس کے بعد وہ کہے گا: اے میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ پھر اللہ فرمائے گا: کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگو گے۔ افسوس تم پر ابن آدم کتنے ہی دغا باز ہو تم اور وہ کہے گا: اے میرے رب اپنی مخلوقات میں سے مجھے سب سے بد نصیب نہ بنا اور وہ بار بار یہی دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ نہیں پڑے گا اور جب وہ اس کی حالت کو دیکھ کر ہنس پڑے گا تو جنت میں جانے کی اس کو اجازت دے دے گا اور جب وہ اس کے اندر جائے گا تو اسے کہا جائے گا یہ یہ آرزو کر اور وہ آرزو کرے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا یہ بھی آرزو کر اور وہ آرزو کرے گا۔ یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ اس سے۔ گا: یہ سب آرزوئیں تمہارے کہے گا: لئے پوری کی گئی ہیں اور اتنی ہی اور ۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا اور یہ وہ شخص ہے جو جنتیوں میں سے سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ٦٥٧٤ : قَالَ عَطَاءٌ وَأَبُو سَعِيدٍ ۶۵۷۴: عطاء بن یزید) کہتے تھے (کہ جب الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث بیان کی تو ) حضرت