صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 344 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 344

صحیح البخاری جلد ۱۵ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۸۱ - کتاب الرقاق قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیں دو ہیں۔ایک اس دنیا کی، ایک اگلے جہان کی۔یہ جو فرمایا ہے کہ ہر ایک شخص دوزخ میں جائے گا اس سے یہ مراد نہیں کہ مومن بھی دوزخ میں جائیں گے۔بلکہ یہ مراد ہے کہ مومن دوزخ کا حصہ اسی دنیا میں پالیتے ہیں۔یعنی کفار انہیں قسم قسم کی تکالیف دیتے ہیں۔ورنہ مؤمن قرآن مجید کی رو سے اگلے جہان میں دوزخ میں کبھی نہیں جائیں گے۔کیونکہ قرآن مجید مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ لَا يَسْمَعُونَ حَسِیسَهَا یعنی مومن دوزخ سے اتنے دور رہیں گے کہ وہ اس کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔پس مومنوں کے دوزخ میں جانے سے مراد ان کا دنیا میں تکلیف اٹھانا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کو بھی ایک قسم کا دوزخ قرار دیا ہے۔فرمایا اتخص حظ كُلِّ مُؤْمِنِ مِنَ النَّارِ یعنی بخار دوزخ کی آگ کا مؤمن کے لیے ایک حصہ ہے۔“ (تفسیر صغیر سورۃ مریم، حاشیہ آیت ۷۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَمَا هُمْ بِخْرِجِينَ مِنَ النَّارِ سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ دوزخی آگ سے نکالے نہیں جائیں گے کیونکہ اس جگہ خدا تعالیٰ کے سلوک کا ذکر نہیں بلکہ ان کی اپنی کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ خود اپنی ذاتی جد و جہد اور کوشش سے اس میں سے نکل نہیں سکیں گے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر ہم کہیں کہ بیمار ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور پھر اسے دوسرے دن ہسپتال لے جایا جائے تو کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ کل تو تم نے یہ کہا تھا کہ بیمار ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور آج تم اسے ہسپتال داخل کر آئے ہو۔کیونکہ ہمارا یہ مطلب نہیں تھا کہ غیر بھی اُسے وہاں نہیں لے جاسکتے اسی طرح اس آیت میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ خود دوزخ سے نہیں نکل سکیں گے۔۔۔چنانچہ اس کی وضاحت قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہو جاتی ہے کہ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنْتُم بِهِ تُكَذِبُونَ (السجدة : ۲۱) یعنی جب کبھی وہ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر اُسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ اب دوزخ کا وہ عذاب چکھو