صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 343 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 343

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱ - کتاب الرقاق أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً۔کرتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہے کہ آپ کے دانت ظاہر ہو گئے اور لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ جنتیوں کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ ہے۔طرفه: ٧٥١١۔٦٥٧٢ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۵۷۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الملک بن عمیر سے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ اُنہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، عَنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ عبد اللہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچایا۔نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ۔أطرافه: ٣٨٨٣، ٦٢٠٨- تشریح: صِفَةُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ : دوزخ اور جنت کی کیفیت۔زیر باب ۲۷ روایات میں جنت کی نعماء کا ذکر ہے اور یہ کہ جنت دائمی ہے جبکہ جہنم عارضی ہے۔قرآنِ کریم میں اس مضمون پر متعدد آیات ہیں۔جہاں تک جنت کی نعماء کا ذکر ہے۔اگر چہ قرآن کریم میں یہ ذکر ہے کہ جنتیوں کو جب نعمتیں دی جائیں گی وہ کہیں گے : هُذَا الَّذِى رُزِقُنَا مِن قَبْلُ ( البقرۃ : ۲۲) وہ کہیں گے یہ تو وہی (رزق) ہے جو ہمیں پہلے سے دیا گیا تھا۔وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها (البقرة:٢٢) کہ وہ چیزیں جو مومن کو جنت میں ملیں گی دنیا کی چیزوں سے مشابہہ ہوں گی گویا ایک طرف ان کو آپس میں متشابہہ قرار دیا ہے اور دوسری طرف ان کو بالکل مختلف قرار دیا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس سے مادی نعماء مراد نہیں بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو روحانی نعمتیں انہیں ملی تھیں وہی متشکل ہو کر انہیں اگلے جہان میں ملیں گی گویاد نیا میں جو عبادتیں کسی نے کی ہوں گی وہی متشکل ہو کر اگلے جہان میں ان کے سامنے آجائیں گی۔اس مضمون کے ذکر میں قرآنِ کریم میں فرمایا: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّيْنِ (الرحمن: ۴۷) اور جو شخص اپنے رب کی شان سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں مقرر ہیں (دنیوی بھی اور اخروی بھی)۔پس وہ جنت وہی ہے جو دنیا میں تیار ہوتی ہے اور وہ مؤمن ایک نہیں بلکہ دو جنتوں کا وارث بنتا ہے مگر جس نے دنیا میں وہ جنت حاصل نہ کی اسے بالآخر ایک جنت تو ملے گی کیونکہ جہنم سے تو بالآخر ہر ایک نے نکل جانا ہے۔احادیث میں یہ ذکر ہے کہ جنتیوں کے آپس کے درجات میں اس قدر فاصلہ ہو گا جیسے ستاروں میں فاصلہ ہے اور وہ ان بالا خانوں میں ہوں گے جو ایک عام درجے کے جنتی سے بہت بلند اور اعلیٰ ہونگے۔جس طرح جنتیں دو ہیں جہنم بھی دو ہیں۔