صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 10 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 10

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات بیان کیا، کہا : حضرت شداد بن اوس (انصاری) ٦٣٠٦: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۳۰۶: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا ( بن سعید) نے ہمیں بتایا۔حسین ( بن ذکوان) نے عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن بریدہ نے ہمیں بتایا۔كَعْبِ الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادُ (انہوں نے کہا: ) بشیر بن کعب عدوی نے مجھ سے بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ رضى اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔حضرت شداد نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔سید الاستغفار یہ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ہے کہ وہ یہ دعا کرے: اے میرے اللہ ! تو ہی میرا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ربّ ہے۔کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔تو نے مجھے پیدا وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا کیا۔میں تیرا بندہ ہوں۔میں تیرے عہد اور اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میں طاقت رکھتا ہوں۔جو میں نے کیا اُس کے شر سے میں صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ تیری پناہ لیتا ہوں۔میں تیرے حضور اقرار کرتا وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان کئے اور میں اپنے گناہ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔قَالَ وَمَنْ کا اقرار کرتا ہوں۔مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ میرے گناہوں سے درگزر فرما کیونکہ کوئی گناہوں يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ کی مغفرت نہیں کرتا مگر تو ہی۔آپ نے فرمایا: اور الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ جو شخص دن کو یہ دعا یقین رکھتے ہوئے کرے گا پھر مُوقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ وہ اس دن شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتیوں میں سے ہو گا اور جس نے رات کو یہ دعا کی جبکہ اس پر وہ یقین رکھتا ہے پھر وہ صبح ہونے فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔طرفه: ٦٣٢٣ - - سے پہلے مر جائے تو وہ بھی جنتیوں میں سے ہو گا۔تشریح : أَفْضَلُ الاستغفار: بهترین استغفار۔امام بخاری نے زیر باب آیات سے استغفار کی فضیلت بیان کی ہے کہ استغفار سے انسان اپنی تمام بشری ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے۔انسان خلعت وجود پہنے سے بھی پہلے سے لے کر خدا کے حضور حاضر ہونے تک ہر لمحہ اور ہر