صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 10
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۰ ٨٠ - كتاب الدعوات ٦٣٠٦ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۳۰۶: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا ( بن سعید ) نے ہمیں بتایا۔ حسین ( بن ذکوان) نے عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن بریدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا:) بشیر بن کعب عدوی نے مجھ سے كَعْبِ الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادُ بیان کیا، کہا: حضرت شداد بن اوس (انصاری) بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔ حضرت شداد نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدُ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ سید کی۔ الاستغفار یہ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي ہے کہ وہ یہ دعا کرے: اے میرے اللہ ! تو ہی میرا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ ربّ ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔ تو نے مجھے پیدا وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا کیا۔ میں تیرا بندہ ہوں۔ میں تیرے عہد اور اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میں طاقت صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ رکھتا ہوں۔ جو میں نے کیا اُس کے شر سے میں تیری پناہ لیتا ہوں۔ میں تیرے حضور اقرار کرتا وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان کئے اور میں اپنے گناہ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔ قَالَ وَمَنْ کا اقرار کرتا ہوں۔ مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ میرے گناہوں سے درگزر فرما کیونکہ کوئی گناہوں يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ کی مغفرت نہیں کرتا مگر تو ہی۔ آپؐ نے فرمایا: اور الْجَنَّةِ وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ جو شخص دن کو یہ دعا یقین رکھتے ہوئے کرے گا پھر مُوقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ وہ اس دن شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ طرفه: ٦٣٢٣ - جنتیوں میں سے ہو گا اور جس نے رات کو یہ دعا کی جبکہ اس پر وہ یقین رکھتا ہے پھر وہ صبح ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ بھی جنتیوں میں سے ہو گا۔ تشریح : أفضل الاستغفار: بهترین استغفار ۔ امام بخاری نے زیر باب آیات سے استغفار کی فضیلت بیان کی ہے کہ استغفار سے انسان اپنی تمام بشری ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے۔ انسان خلعت وجود پہننے سے بھی پہلے سے لے کر خدا کے حضور حاضر ہونے تک ہر لمحہ اور ہر