صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 340
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۴۰ ۸۱ - کتاب الرقاق فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِتِينَ آگ سے نکلیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔انہیں جہنمی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔٦٥٦٧ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۲۵۶۷: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ سے حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَكَ حارثہ بدر کے دن شہید ہو گئے تھے انہیں ایک حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهُم غَرْب ناگہانی تیر لگا تھا۔حضرت اُم حارثہ رسول اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور وہ کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ الْجَنَّة آپ خوب جانتے ہیں جو حارثہ کی محبت میرے حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ دل میں تھی اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں اُس پر نہیں روؤں گی اور نہ آپ عنقریب دیکھ لیں گے کہ میں کیا کچھ کروں گی۔آپؐ نے فرمایا: بھولی بھالی ! لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ وَإِلَّا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ لَهَا هَبِلْتِ أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي کیا جنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت ہیں اور وہ تو الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى۔أطرافه: ۲۸۰۹، ۳۹۸۲، ٦٥٥۰ - فردوس بریں میں ہے۔٦٥٦٨: وَقَالَ غَدْوَةٌ فِي سَبِیلِ اللهِ :۶۵۶۸: اور فرمایا: اللہ کی راہ میں تھوڑا سا صبح کو نکلنا یا أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا تھوڑا سا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ - أَوْ مَوْضِعُ میں تم میں سے ایک کی کمان برابر یا پاؤں رکھنے کی قَدَمٍ - مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور اگر جنتیوں کی وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ عورتوں میں سے کوئی عورت زمین پر جھانک پائے الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ تو وہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب کو روشن مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا کر دے اور اس ساری فضا کو جو زمین و آسمان کے وَلَنَصِيفُهَا - يَعْنِي الْخِمَارَ - خَيْرٌ درمیان ہے خوشبو سے بھر دے اور اس کا دوپٹہ