صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 334
صحیح البخاری جلد ۱۵ سلام سلام سلام ۸۱ - كتاب الرقاق لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ گا دوزخیوں میں سے جس کو قیامت کے روز بہت أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ ہلکی سزا ہو گی (اس سے پوچھا جائے گا) جو کچھ بھی فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا زمین میں ہے اگر تمہارے لئے ہو تو کیا تم اس کو وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ دے کر اپنے آپ کو چھڑواؤ گے ؟ وہ کہے گا: ہاں۔بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان بات چاہی تھی جبکہ تو آدم کی پشت میں تھا اور وہ یہ کہ کسی چیز کو بھی میرا شریک نہ ٹھہراؤ مگر تم نے نہ مانا میرے شریک ہی ٹھہرائے۔أطرافه: ٣٣٣٤، ٦٥٣٨- بي۔٦٥٥٨ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۶۵۵۸ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ (بن) زید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو (بن اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كَأَنَّهُمْ الشَّعَارِيرُ قُلْتُ وَمَا التَّعَارِيرُ شفاعت سے جو آگ سے نکلیں گے وہ ایسے ہوں قَالَ الصَّغَابِيسُ وَكَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ گے جیسے تعاریر۔(حماد کہتے تھے ) میں نے پوچھا: یہ تعاریر کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا: چھوٹی لکڑیاں۔اور اُن کے دانت گر گئے تھے۔میں نے عمرو بن دینار ابو محمد سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے سنا کہ وہ یہ کہتے تھے کہ میں نے يَقُولُ يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنَ النَّارِ قَالَ فی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: شفاعت پر آگ سے نکلیں گے ؟ انہوں نے کہا فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ۔ہاں۔٦٥٥٩: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ :۲۵۵۹ ہدیہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت