صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 330
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۳۰ ۸۱ - كتاب الرقاق فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ موت نہیں۔ یہ سن کر جنتی جو پہلے خوش تھے وہ اور تھے وہ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ۔ طرفه: ٦٥٤٤ - خوش ہوں گے اور دوزخی جو پہلے غمگین تھے و بھی غمگین ہوں گے۔ تھے وہ اور ٦٥٤٩ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ :۶۵۴۹: معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ مالک أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بن انس نے ہمیں بتایا، مالک نے زید بن اسلم بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ سے، زید نے عطاء بن بسیار سے، عطاء نے قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی۔ اُنہوں وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ تبارک و تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا۔ اے جنتیو ! وہ کہیں گے۔ حاضر ہیں ہم اے ہمارے رب اور لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ جو ارشاد ہو بجالانے کے لئے تیار ہیں۔ تو وہ فرمائے رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى گا: کیا تم خوش ہو گئے ؟ وہ کہیں گے۔ ہمیں کیا ہے کہ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ ہم خوش نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی تو نے نہ دیا۔ وہ فرمائے مِنْ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ گا: میں تم کو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر دوں گا۔ وہ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ کہیں گے: اے رب ان نعمتوں۔ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ کوئی چیز ہے؟ وہ فرمائے گا: میں اپنی رضامندی تم پر اُتارتا ہوں۔ اب اس کے بعد کبھی بھی تم پر أَبَدًا ۔ طرفه: ٧٥١٨ ناراض نہیں ہوں گا۔ سے بڑھ کر اور ٦٥٥٠ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۵۵۰: عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحاق نے ہم