صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 328
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۸ ۸۱ - كتاب الرقاق اللہ وسلم سے کی اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔ واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں نے تو کل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا اور پھر تو کل کرتا تو ٹھیک ہوتا“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۵۶۶) روایت نمبر ۶۵۴۲ میں لفظ نمرہ آیا ہے۔ نمرة هي كساء فيه خطوط بيض وسود كانها أخذت من جلد النمر۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۱۱۷) نمرہ اس چادر کو کہتے ہیں جس میں سفید اور کالی دھاریاں ہوں، گویا کہ یہ چادر چیتے کی کھال سے بنائی گئی ہے کیونکہ نمر کا مطلب چیتا ہے۔ بَاب ٥١ : صِفَةُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ دوزخ اور جنت کی کیفیت اور دے وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ حضرت ابو سعید نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ نے فرمایا: پہلا کھانا جو جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کے الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتِ عَدْنٌ خُلد کلیجے کا بڑھا ہوا حصہ ہوگا۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ عَدَنْتُ بِأَرْضٍ أَقَمْتُ وَمِنْهُ الْمَعْدِنُ رہنا۔ عَدَنْتُ بِأَرْضِ کے معنی ہیں فلاں سر زمین فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ (القمر: ٥٦) فِي مَنْبِتِ میں قیام کیا اور اسی لفظ سے مغدِن مشتق ہے۔ کہتے ہیں فی مَقْعَدِ صِدْقٍ یعنی سچائی کے پیدا صدق۔ ہونے کی جگہ ۔ ٦٥٤٦ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ۶۵۴۶: عثمان بن ہیشم نے ہم سے بیان کیا کہ عوف حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابو رجاء سے ابورجاء عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے حضرت عمران بن حصین) سے ، حضرت عمران اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپ نے الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو اکثر اس میں أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ۔ أطرافه: ٣٢٤١، ٥١٩٨ ، ٦٤٤٩۔ رہنے والے انہی لوگوں کو دیکھا جو غریب ہیں ۔ اور میں نے آگ میں جھانکا تو میں نے اکثر وہاں کے رہنے والی عور تیں ہی دیکھیں۔