صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 327
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۷ ۸۱ - کتاب الرقاق حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرۃ العزیز فرماتے ہیں: اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اگر امت کے لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے، بیہودہ گوئی، لغو، فضول کاموں میں ملوث نہیں ہوں گے ، حقوق العباد ادا کرنے والے ہوں گے ، اپنے رب پر ایمان لانے والے ہوں گے ، اس پر توکل کرنے والے ہوں گے ، اور اسی کی طرف جھکنے والے ہوں گے تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔تو یہاں جو تعداد کا ذکر ہے یہ کثرت کے لئے ہے اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی ہے کہ میری اُمت میں ایسے لوگ کثرت سے ہوں گے انشاء اللہ ، جو اللہ پر توکل رکھنے والے ہوں گے اور قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔یہ نہیں کہ جہاں ستر ہزار کی تعداد مکمل ہوئی وہاں فرشتوں نے جنت کے گیٹ (Gate) بند کر دئے کہ اب وہ آخری آدمی جو نیکیوں اور توکل کرنے والا تھا وہ تو جنت میں داخل ہو گیا اب ختم۔اب چاہے تم تو کل کرو، نیکیاں کر دیا نہ کرو جنت میں داخل نہیں ہو سکتے نہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۵/ اگست ۲۰۰۳ جلد ۱ صفحه ۲۴۳،۲۴۲) وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ: اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے تھے۔زیر باب روایت ۶۵۴۱ میں بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والوں کی ایک خوبی یہ بیان کی کہ وہ اپنے رب پر توکل کرنے والے ہوں گے۔تو کل کیا ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خد اتعالیٰ پر چھوڑے اس کا نام تو کل ہے اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف تو کل کرتا ہے تو اس کا تو کل پھوکا (جس کے اندر کچھ نہ ہو) ہو گا۔اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ پر توکل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھو کی (جس کے اندر کچھ نہ ہو) ہو گی ” ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا تعظیم کے لئے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ تو کل کرے اور تدبیر نہ کرے۔چنانچہ اس نے