صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 326 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 326

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٣٢٦ كتاب الرقاق کیا۔یا رسول اللہ ! دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔“ آپ نے اسی وقت دعا فرمائی کہ اے خدا تو اپنے فضل سے عکاشہ کو بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔اس کے بعد ایک انصاری شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میرے لئے بھی یہ دعا فرمائیں اس پر آپ نے فرمایا: سَبَقَكَ بِهَا عُكَلشَةُ یعنی ”اب تو عکاشہ تم پر اس معاملہ میں بازی لے جاچکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا یہ ایک بظاہر چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر بہت سے معارف کا خزانہ رکھتا ہے کیونکہ اول تو اس سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا اس درجہ فضل و کرم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ آپ کی اُمت میں سے ستر ہزار آدمی ایسا ہو گا جو اپنے نمایاں روحانی مقام اور خدا کے خاص فضل و کرم کی وجہ سے گویا قیامت کے دن حساب و کتاب کی پریشانی سے بالا سمجھا جائے گا۔دوسرے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ کی روحانی توجہ پر خدا تعالیٰ نے فور ابذریعہ کشف یا القاء آپکو یہ علم دے دیا کہ عکاشہ بھی اس ستر ہزار کے پاک گروہ میں شامل ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عکاشہ پہلے اس گروہ میں شامل نہ ہو مگر آپ کی دعا کے نتیجہ میں خدا نے اسے یہ شرف عطا کر دیا ہو۔تیسرے اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا اس درجہ ادب ملحوظ تھا اور آپ اپنی امت میں جہد و عمل کو اس درجہ ترقی دینا چاہتے تھے کہ جب عکاشہ کے بعد ایک دوسرے شخص نے آپ سے اسی قسم کی دعا کی درخواست کی تو آپ نے اس اخص روحانی مقام کے پیش نظر جو اس پاک گروہ کو حاصل ہے مزید انفرادی دعا سے انکار کر دیا تا کہ مسلمانوں کو تقویٰ اور ایمان اور عمل صالح میں ترقی کرنے کی طرف توجہ رہے۔چوتھے اس سے آپ کے اعلیٰ اخلاق پر بھی غیر معمولی روشنی پڑتی ہے۔کیونکہ آپ نے انکار ایسے رنگ میں نہیں کیا۔جس سے سوال کرنے والے انصاری کی دل شکنی ہو بلکہ ایک نہایت لطیف رنگ میں بات کو ٹال گئے۔“ (سیرت خاتم النبيين على علم جلد اول صفحه ۷۵۳، ۷۵۴)