صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 325 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 325

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۵ ۸۱ - کتاب الرقاق ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِنٌ بَيْنَهُمْ يَا أَهْلَ النَّارِ آپ نے فرمایا: جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی کرنے والا اُن کے درمیان کھڑا ہو گا (کہے گا:) اے آگ خُلُود۔طرفه: ٦٥٤٨ - والو! اب کوئی موت نہیں اور اے جنتیو ! اب کوئی موت نہیں ہمیشہ ہی رہنا ہے۔٦٥٤٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۵۴۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں خبر دی۔ابو زناد نے ہمیں بتایا۔ابوزناد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا روایت کی۔انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَلِأَهْل نے فرمایا: جنتیوں سے کہا جائے گا اے جنتیو! النَّارِ يَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ۔ہمیشہ ہی رہنا ہو گا مرنا نہیں اور ( ایسا ہی) دوزخیوں سے کہا جائے گا۔اے دوزخیو ! ہمیشہ رہنا ہو گا مرنا نہیں۔شريح۔يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ: جنت میں ستر ہزار بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "عكاشة فضلا صحابہ میں سے تھے اور اہل مکہ کے حلیف تھے۔وہ حضرت ابو بکر کے عہد میں جنگ مرتدین میں شہید ہوئے۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کے متعلق حدیث میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں ذکر فرمایا کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔یعنی وہ ایسے روحانی مرتبہ پر فائز ہوں گے اور ان کے لئے خدائی فضل و کرم اس قدر جوش میں ہو گا کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں سمجھی جائے گی۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے چہرے قیامت کے دن اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح کہ چودہویں رات کا چاند آسمان پر چمکتا ہے۔اس پر عکاشہ نے عرض