صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 323
صحیح البخاری جلد ۱۵ سمسم ۱ - کتاب الرقاق سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ۔اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ اُنہوں نے کہا: وہ داغ نہیں لگواتے تھے اور نہ ہی فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ منتر پڑھوایا کرتے تھے اور نہ بُرا شگون لیتے تھے اور اپنے ربّ پر بھروسہ رکھتے تھے۔اس پر حضرت عکاشہ بن محصن اٹھ کر آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! اس کو بھی انہی میں سے کیجیو۔پھر ایک اور شخص اُٹھ کر آپ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: دعا کریں مجھے بھی انہی میں سے کرے۔آپ نے فرمایا: عکاشہ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔أطرافه: ٣٤١٠ ٥٧٠٥ ٥٧٥٢ ٦٤٧٢- ٦٥٤٢ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ :۶۵۴۲ معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن عبد اللہ نے ہمیں خبر دی۔یونس نے ہمیں بتایا۔الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ اُنہوں نے زہری سے ، زہری نے کہا سعید الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ نے اُن سے بیان کیا۔اُنہوں نے کہا : وَسَلَّمَ يَقُولُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔میری اُمت میں سے ستر ہزار جنت زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفَا تُضِيءُ میں داخل ہوں گے۔ان کے چہرے چودھویں وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔اور حضرت وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ ابوہریرہ نے کہا: ( یہ سن کر ) عکاشہ بن محصن اسدی مِحْصَنِ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةٌ عَلَيْهِ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے، کہنے لگے: فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي يا رسول اللہ ! میرے لئے بھی دعا کریں کہ وہ مجھے مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ اُن میں سے کرے۔آپ نے کہا: اے اللہ ! اس