صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۲ ۸۱ - كتاب الرقاق بَاب :٥٠: يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ جنت میں ستر ہزار بغیر حساب کے داخل ہوں گے يَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَهُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ كَثِيرٌ قُلْتُ يَا ٦٥٤١ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ :۶۵۴۱: عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ حِ۔بن فضیل نے ہمیں بتایا حصین ( بن عبد الرحمن) نے و حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ہم سے بیان کیا۔نیز اسید بن زید نے بھی مجھ سے هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ بیان کیا کہ ہشیم (بن بشیر ) نے ہمیں بتایا۔انہوں سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ نے حصین سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: میں عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سعيد بن جبیر کے پاس تھا تو انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَأَخَذَ حضرت ابن عباس نے مجھ سے بیان کیا۔وہ کہتے النَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْأُمَّةُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے (ساری) امتیں پیش کی گئیں۔کوئی نبی النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ وَالنَّبِيُّ گزرتا تو اس کے ساتھ جماعت ہوتی اور کوئی نبی گزرتا تو اس کے ساتھ تھوڑے سے آدمی تھے اور کوئی نبی گزرتا اس کے ساتھ دس آدمی ہوتے جِبْرِيلُ هَؤُلَاءِ أُمَّتِي قَالَ لَا وَلَكِنْ اور کوئی نبی گزرتا اس کے ساتھ پانچ آدمی ہوتے انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ اور کوئی نبی اکیلے گزرتا۔میں نے نظر ڈالی تو کیا كَثِيرٌ قَالَ هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَهَؤُلَاءِ دیکھتا ہوں بہت بڑی جماعت ہے میں نے کہا۔سَبْعُونَ أَلْفَا قُدَّامَهُمْ لَا حِسَابَ جريل! یہ میری امت ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ بلکہ اس اُفق کی طرف آپ دیکھیں میں نے نظر كَانُوا لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں بہت ہی بڑی جماعت ہے۔يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ انہوں نے کہا: یہ لوگ آپ کی اُمت ہیں اور یہ إِلَيْهِ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنِ فَقَالَ ادْعُ ستر ہزار جو ان کے آگے آگے ہیں ان پر نہ کوئی اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ حساب ہے اور نہ کوئی عذاب۔میں نے کہا: کیوں؟