صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 321
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۱ ۸۱ - کتاب الرقاق یہ کام کئے تھے اور جب وہ اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کر دے گا۔گویا کافر کے حساب کی غرض اُسے ذلیل کرنا ہے لیکن مومن کے حساب کی غرض یہ ہو گی کہ اس کے اچھے اچھے کام لوگوں پر ظاہر کئے جائیں اور انہیں پتہ 66 لگے کہ اُس نے کیسے کیسے نیک اعمال کئے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ التکویر، زیر آیت وَإِذَا الْمَوْعدة سيلت۔۔جلد ۸ صفحه ۲۱۴) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فرمایا: مَن تُوقِشَ الْحِسَابَ عُذب جس کے حساب میں کرید کی گئی وہ مُعَذِّب ہو گا۔ابوہریرہ سے مروی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں کہ ان سے حساب سیر ہو گا۔ایک یہ کہ جو اسے محروم رکھے اور نہ دے اسے دیا کرے، دوسرے یہ کہ جو ظلم کرے اس کو معاف کرے۔تیسرے جو اس سے قطع رحمی کرے وہ اس سے وصل کرے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۳۴۹) فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَى النَّارَ وَلَوْ بِشق تمرة: جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو کہ وہ آگ سے بچے (تو وہ بچے۔) خواہ کھجور کا ایک ٹکڑاہی دے گر۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تمام مذاہب کے درمیان یہ امر متفق ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بلائل جاتی ہے۔اور بلا کے آنے کے متعلق اگر خدا تعالیٰ پہلے سے خبر دے تو وہ وعید کی پیشگوئی ہے۔پس صدقہ و خیرات سے اور توبہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے وعید کی پیشگوئی بھی ٹل سکتی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بلائل جاتی ہے۔ہندو بھی مصیبت کے وقت صدقہ خیرات دیتے ہیں۔اگر بلا ایسی شے ہے کہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات سب عبث ہو جاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحه ۱۷۷،۱۷۶)