صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 320
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۲۰ ۸۱ - کتاب الرقاق أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ۔جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو کہ وہ آگ سے بچے (تو وہ بچے۔خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر۔أطرافه: ١٤١٣، ١٤١٧ ،۳٥٩٥ ٦۰۲۳ ، ٦٥٤٠، ٦٥٦، ٧٤٤، ٧٥١٢۔٦٥٤٠ : قَالَ الْأَعْمَسُ حَدَّثَنِي عَمْرُو ۶۵۴۰: اعمش نے کہا: عمر و بن مرہ) نے مجھ سے عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ بیان کیا۔اُنہوں نے خیثمہ (بن عبد الرحمن) سے، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خیمہ نے حضرت عدی بن حاتم سے روایت کی۔اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ اُنہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثَلَاثًا سے بچو۔یہ کہہ کر آپ نے منہ پھیر لیا اور دوسری حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ طرف رخ کیا۔پھر فرمایا: آگ سے بچو۔پھر آپ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ نے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف رخ کیا۔تین يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ۔بار ایسا ہی کیا۔یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپ اُسے دیکھ رہے ہیں۔پھر فرمایا: آگ سے بچو کو کھجور کے ایک ٹکڑے سے اور جو یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات ہی کہہ کر۔أطرافه ١٤١٣، ١٤١٧، ۳٥٩٥ ٦۰۲۳ ٦٥٣٩ ٦٥٦٣، ٧٤٤، ٧٥١٢ - تشریح : مَنْ نُو قِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ : جس سے حساب کرید کرید کر پوچھا جائے گا اسے سزادی جائے گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”احادیث میں بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ نُّوقِش الْحِسَابَ عُلب جس سے سختی سے حساب لیا گیا وہ ضرور عذاب میں مبتلا ہو گا۔در حقیقت مجرم سے جب کوئی سوال کیا جاتا ہے اور اس میں سختی سے کام لیا جاتا ہے تو اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ حساب لے کر اُسے سزا دی جائے لیکن مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات سے حصہ دینا ہے اس لئے اُس کے اچھے اچھے اعمال نکال کر اُس کے سامنے رکھے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ بتاؤ۔کیا تم نے