صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 317
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۷ ۱ - کتاب الرقاق اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آپس میں صلح کرادیتے آخر یہ بات آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھی ورنہ اس طرح پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتا ہے کہ انہوں نے صلح کی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔“ بَاب ٤٩ : مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ لمفوظات، جلد ۲ صفحه (۴۴۱) جس سے حساب کرید کرید کر پوچھا جائے گا اُسے سزادی جائے گی ٦٥٣٦ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى :۶۵۳۶: عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي نے عثمان بن اسود سے، عثمان نے ابن ابی ملیکہ مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی سے، اُنہوں نے حضرت عائشہ سے، حضرت اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نُوقِ عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ الْحِسَابَ عُذِّبَ قَالَتْ قُلْتُ أَلَيْسَ نے فرمایا: جس سے کرید کرید کر حساب لیا گیا اُس يَقُولُ اللهُ تَعَالَى فَسَوْفَ يُحَاسَبُ کو سزادی جائے گی۔حضرت عائشہ کہتی تھیں میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: کہ عنقریب حِسَابًا يَسِيرًا (الانشقاق: ٩) قَالَ ذَلِكِ اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔آپ نے الْعَرْضُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِقٍ فرمایا: یہ تو صرف پیش کیا جائے گا۔عمرو بن علی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی بن سعید بْنِ الْأَسْوَدِ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ (قطان) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عثمان بن قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اسود سے روایت کی کہ میں نے ابن ابی ملیکہ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا۔انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ وَسَلَّمَ۔۔۔مِثْلَهُ۔وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ رضی اللہ عنہا سے سنا۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں: وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ وَأَيُّوبُ وَصَالِحُ بْنُ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا۔اور رُسْتُم عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عثمان کی طرح) ابن جریج اور محمد بن سلیم اور