صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 316
صحیح البخاری جلد ۱۵ ٣١٦ ۸۱ - کتاب الرقاق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گزشتہ مفسرین نے قارعة کے معنے قیامت کے کئے ہیں اور چونکہ قرع کے ایک معنے شدید آواز کے بھی ہیں گو عام لغت کی کتب میں یہ معنے نہیں نکلے مگر تفاسیر میں قرع کے معنے شدید آواز کے بھی بتائے گئے ہیں۔اس وجہ سے بعض مفسرین نے قارِعَة کے معنے یہ بھی کئے ہیں کہ اس سے مراد اسرافیل کی وہ گرج ہے جو قیامت کے قریب ہو گی اور جس سے سب لوگ مر جائیں گے (فتح البیان سورۃ القارعہ) قرع کے معنے تو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔لیکن الْقَارِعَة کی شکل میں اس لفظ کے کچھ الگ معنے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ الْقَارِعَة کے ایک معنے قیامت کے بھی کئے گئے ہیں کیونکہ وہ مختلف قسم کے صدمات اور تخویف کے سامان اپنے ساتھ لائے گی۔اسی طرح اس کے ایک معنے الداهية کے بھی ہیں یعنی اچانک آنے والی کوئی عظیم الشان مصیبت اور الْقَارِعَة کے معنے التَّكْبَةُ الْمُهْلِكَةُ کے بھی ہیں یعنی ہلاک کر دینے والی مصیبت اور القارعة رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کو بھی کہتے ہیں جن کو اصطلا حاسر آیا کہا جاتا ہے۔عام اصطلاح میں تو سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہ ہوں مگر اس کے اصل معنے چھوٹے چھوٹے لشکروں کے ہیں (اقرب)۔“ ( تفسیر کبیر، جلد ۹ صفحه ۵۰۷،۵۰۶) وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِل: اور ان کے سینوں میں جو کینہ (وغیرہ) بھی ہو گا، اُسے ہم نکال دیں گے۔اس آیت کے ذیل میں امام بخاری روایت ۶۵۳۵ لائے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان پل پر جنتیوں کو روک لیا جائے گا اور ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ چکا یا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آپس کی رنجشیں خانگی امور ہوتے ہیں ان کا اثر ان (صحابہ) پر نہیں پڑسکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِل (الحجر : ۴۸) اور عَلَى سُرُرٍ مُتَقبِلِينَ (الحجر: ۴۸) یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں بخشیں ہوں گی لیکن غل ان کے سینوں میں سے ہم کھینچ لیں گے وہ بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے۔اب شیعوں سے پوچھو کہ اس وقت زمانہ نبوی میں تو کوئی رنجش نہ تھی اور