صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 315
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۵ ۸۱ - كتاب الرقاق وَنُقُوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ کے لئے لیا جائے گا یہاں تک کہ جب اُنہیں فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ ٹھیک ٹھاک کیا جائے گا اور وہ بالکل پاک صاف أَهْدَى بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اُس ذات کی قسم ہے جس كَانَ فِي الدُّنْيَا۔ کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ اُن میں سے ایک بہشت میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے کے لئے راستہ زیادہ آسانی سے پالے گا بنسبت اس کے کہ دنیا میں اپنے گھر پر آنے کے لئے راستہ پایا کرتا تھا أطرافه: ٢٤٤٠ - تشریح : الْقِصَاصُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : قیامت کے روز بدلہ لیا جاتا۔ القصاص : أَنْ يُفْعَلَ بِهِ مِثْلَ فِعْلِهِ، مِنْ قَتْلِ أَوْ قَطَع أَوْ ضَرْبٍ أَوْ جَرْح (لسان العرب - قصص) قصاص کے معنے یہ ہیں کہ کسی شخص سے وہی سلوک کیا جائے جو اس نے قتل یا قطع یا ضرب یا زخم کرنے کی صورت میں دوسرے سے کیا ہے۔ تاج العروس میں لکھا ہے : الْقِصَاصُ : القتل بالقتل، أو الجرح بالجرح (تاج العروس قصص) کہ قصاص اس چیز کا نام ہے کہ قتل کے مقابلہ میں قتل اور زخم کے مقابلہ میں زخم میں زخم کیا جائے۔ ایک حدیث میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا جبکہ زیر باب حدیث میں قصاص کا ذکر ہے۔ شارحین نے اس تعارض کو یوں حل کیا ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں قصاص سب سے پہلے ہو گا۔ ایک حدیث میں بھی اس کی صراحت کی گئی ہے اس لیے اس بظاہر تضاد میں تطبیق کے لیے کسی بیرونی دلیل کی ضرورت نہیں ہے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا اور لوگوں میں سب سے پہلے خونِ ناحق کا فیصلہ کیا جائے گا۔ لے قیامت کو الْحَاقَّةُ، الْقَارِعَةُ، الْغَاشِيَةُ الصَّاحَةُ اور التغابن بھی کہتے ہیں۔ الْقَارِعَةُ : قرع سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور قَرَعَ يَقْرَعُ قَرْعًا) الْبَابَ کے معنے ہیں دَقَّهُ۔ دروازه پر دستک دی اور قرع الشیء کے معنے ہوتے ہیں ضَرَبَہ کسی چیز کو مارا اور قرعَ صِفَاتہ کے معنے ہوتے ہیں تنقَّصَهُ وَ عَابَهُ اس کی صفات کی تنقیص کی اور اس پر عیب لگایا اور قَرَعَ زَيْدًا آمر کے معنے ہوتے ہیں آتاه نجاتی اچانک کوئی معاملہ اُسے پیش آگیا اور قَرَعَ الشَّهُمُ الْقِرْطَاس کے معنے ہوتے ہیں اصابہ ہدف پر تیر لگ گیا۔ (اقرب الموارد - قرع) ا۔ (سنن النسائی ، کتاب تحريم الدم ، باب تعظیم الله ، روایت نمبر ۳۹۹۱)