صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 314
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۴ ۸۱ - کتاب الرقاق ٦٥٣٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۶۵۳۴: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں نے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِي کہا مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے سعید مقبری عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا فَإِنَّهُ کے پاس اس کے بھائی کا دبایا ہوا حق ہو تو چاہیے لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ کہ وہ آج ہی اس ظلم سے آزاد ہو جائے کیونکہ يُؤْحَدَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنَّ لَمْ وَہا نہ دینار ہو گا نہ درہم۔پیشتر اس کے کہ اس کی نیکیوں میں سے لے کر اس کے بھائی کو دیا يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ جائے اگر اس کی نیکیاں نہ ہو ئیں تو اس کے بھائی کی بدیوں میں سے لے کر اس کے اوپر ڈال دی أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ۔طرفه: ٢٤٤٩ - وَ جائیں گی۔٦٥٣٥: حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۵۳۵: صلت بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَ نَزَعْنَا مَا بن زرایع نے ہمیں بتایا۔( یہ جو فرمایا) جو بھی ان فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِل ( الحجر : ٤٨) کے سینوں میں کوئی کینہ ہو گا ہم اس کو نکال دیں قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ گے۔کہا کہ سعید بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابو المتوکل أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ناجی سے روایت کی کہ حضرت ابوسعید خدری الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا۔مؤمن آگ سے صحیح سالم بیچ کر نکل يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ جائیں گے اور انہیں ایک پل پر روکا جائے گا جو عَلَى قَنْطَرَةِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَصُّ جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا تو پھر وہ ظلم جو لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ دنیا میں اُن کے درمیان آپس میں ایک دوسرے بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِبُوا پر ہوئے ہوں گے تو ان کا بدلہ ایک سے دوسرے