صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 313
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۳ ۸۱- كتاب الرقاق مانگے۔ اور اُن سے کہے کہ یہ ہماری نہیں بلکہ تمہاری حکومت ہے۔ جو قوم دُنیا میں بنی نوع انسان کی خدمت کا احساس لے کر کھڑی ہو گی اور پھر زائد حقوق مانگنے کے لئے بھی تیار نہیں ہو گی وہ ہمیشہ رہے گی۔ اُس کے خلاف لوگوں کو بغاوت کرنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آسکتی۔ خدا تعالیٰ کے حساب لینے کے یہ معنے نہیں کہ وہ خود براہ راست حساب لے۔ قیامت کے دن وہ خود حساب لے گا اور اس دنیا میں وہ انسانوں میں سے ہی کسی فرد یا قوم کو حساب لینے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے اس قوم کا حساب لینا خدا تعالیٰ کا حساب لینا ہی کہلاتا ہے۔“ 66 ( تفسير كبير ، سورة التطفيف، زير آيت يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ جلد ۸ صفحه ۲۸۵) باب ٤٨ : الْقِصَاصُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قیامت کے روز بدلہ لیا جانا وَهِيَ الْحَاقَّةُ لِأَنَّ فِيهَا الثَّوَابَ اور قیامت کو حاقہ بھی کہتے ہیں اس لئے کہ اس وَحَوَاقَ الْأُمُورِ الْحَقَّةُ وَ الْحَاقَّةُ میں بدلہ ملے گا اور وہ کام ہوں گے جو ثابت شدہ وَاحِدٌ وَ الْقَارِعَةُ وَالْغَاشِيَةُ وَ الصَّاحَةُ اور حق ہیں۔ حَقَّة اور حافة ایک ہی ہیں اور قَارِعَة وَالتَّغَابُنُ غَيْنُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ النَّارِ۔ اور غَاشِيَة اور صاحہ بھی (قیامت کو) کہتے ہیں اور تغابن بھی جس کے معنے ہیں کہ جنتی دوزخیوں سے نفع میں رہیں گے۔ ٦٥٣٣ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۶۵۳۳: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنِي باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ شَقِيقٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شفيق بن سلمہ ) نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ عبد الله بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے درمیان طرفه: ٦٨٦٤ - سب سے پہلے خون (کے بدلہ ) کا فیصلہ ہو گا۔