صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 312
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۲ ۸۱ - کتاب الرقاق يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي فرمايا: قیامت کے روز لوگوں کو اتنا پسینہ آئے گا الْأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْحِمُهُمْ کہ اُن کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک پہنچ جائے گا حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ۔اور اُن کے منہ تک پہنچتے پہنچتے ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔تشریح۔قَولُ اللهِ تَعَالَى الايَظُنُّ لِرَبِّ الْعَلَمین : جس دن کہ لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔پسینہ، گھبراہٹ خوف اور گرمی کی شدت کی وجہ سے آتا ہے۔زیر باب روایات میں ان تمام حالتوں کا ذکر ہے جن میں انسان اپنے انجام کے تصور سے انتہائی خوف زدہ ہو گا اور گھبراہٹ و بے چینی میں مبتلا ہو گا نیز جہنم کی آگ کی تپش کی وجہ سے بھی وہ پسینے میں شرابور ہو گا اور رب العالمین کے سامنے جواب دہی کا خوف اس قدر اس پر مستولی ہو گا کہ انگ انگ سے پسینہ پھوٹ رہا ہو گا۔گھبراہٹ اور خوف کو پسینے کی تمثیل سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالِمِین میں در حقیقت يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسُ لِنَفْسٍ شَيْئًا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب تو یہ مشرقی اور مغربی، گورے اور کالے، یوروپین اور ایشیائی میں فرق کرتے ہیں مگر ایک دن آئے گا جب یہ لوگ اُس خدا کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے جو رب العالمین ہے۔وہ اس وقت ان لوگوں سے ان مظالم کے بارہ میں باز پرس کرے گا اور کہے گا کہ کیوں تم نے ایک طبقہ کو ذلیل کیا۔اور کیوں اُس کو محکوم و مغلوب رکھا۔آخر خدا کسی ایک قوم کا نہیں بلکہ وہ رب العالمین ہے۔وہ ایشیائیوں کا بھی خدا ہے اور افریقنوں کا بھی خدا ہے اور چینیوں کا بھی خدا ہے اور جاپانیوں کا بھی خدا ہے اور انگریزوں کا بھی خدا ہے اور امریکنوں کا بھی خدا ہے۔وہ اپنے بندوں کو اُسی کے ماتحت دیکھ کر خوش ہو سکتا ہے جو رب العالمین کی صفت اپنے اندر لے لے اور اُس کی ربوبیت کا کامل مظہر بن جائے۔عارضی حکومتیں دنیا میں بے شک ہوتی چلی آئی ہیں اور وہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد مٹتی بھی رہی ہیں۔لیکن مستقل طور پر وہی قوم دنیا پر حکومت کر سکتی ہے جو لوگوں سے زائد حقوق نہ