صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 311
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۱ بَاب ٤٧ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَّبْعُوثُونَ ۸۱- كتاب الرقاق لِيَوْمٍ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (المطففين : ٥-٧) عَظِيمٍ يَوْمَ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: کیا یقین نہیں کرتے یہ لوگ کہ اُنہیں ایک بہت ہی بڑے دن کے لئے اُٹھایا جائے گا وہ دن جس دن کہ لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمْ (البقرة: ١٦٧) قَالَ الْوُصُلَاتُ فِي الْأَسْبَابُ جو فرمایا کہا اس سے مراد ہے دنیا میں جو الدُّنْيَا۔ تعلقات تھے وہ کٹ جائیں گے۔ ٦٥٣١ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ۶۵۳۱: اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہم سے بیان کیا، ابن عون نے نافع سے، نافع نے ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ر رضی اللہ عنہما رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عمر رضی سے، حضرت ابن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی (کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس وقت (تمام) لوگ الْعَلَمِينَ (المطففين: ٧) قَالَ يَقُومُ سب جہانوں کے رب کا فیصلہ سننے) کے لئے أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ کھڑے ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا: اس سے مراد أُذُنَيْهِ۔ طرفه: ٤٩٣٨ یہ ہے کہ اُن میں سے ایک اپنے پسینے میں ڈوبا کھڑا ہو گا جو اُس کے آدھے کانوں تک پہنچے گا۔ ٦٥٣٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۶۵۳۲: عبدالعزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ کیا۔ اُنہوں نے کہا سلیمان (بن بلال) نے مجھے زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید سے ، ثور نے ابو الغیث رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى ہے ، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْرَقُ النَّاسُ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے