صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 310
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۱۰ ۸۱ - كتاب الرقاق لفظ سے مراد کبھی قیامت بھی لی جاتی ہے۔ وَقِيلَ السَّاعَاتُ اللَّتِي هِيَ الْقِيَامَةُ ثَلَاثَةُ السَّاعَةُ الْكُبْرَى وَهِيَ بَعْثُ النَّاسِ لِلْمُحَاسَبَة۔ علماء نے بیان کیا ہے کہ وہ ساعات جن کو قیامت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے تین ہیں۔ (۱) السَّاعَةُ الكبرى: جبکہ لوگوں کو محاسبہ کیلئے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔ (۲) السَّاعَةُ الْوُسْطَى وَهِيَ مَوْتُ أَهْلِ الْقَرْنِ ساعت وسطیٰ: اور یہ زمانہ کے لوگوں کا مرنا اور ختم ہونا ہے۔ (۳) وَالسَّاعَةُ الصُّغْرَى وَهِيَ مَوْتُ الْإِنْسَانِ فَسَاعَةُ كُلُّ إِنْسَانِ مَوْتُهُ اور ساعت صغری انسانی موت کا نام ہے پس ہر انسان کی ساعۃ اس کی موت ہوتی ہے۔ (المفردات فی غریب القرآن - ساعة) پس السَّاعَةُ کے معنی ہوں گے ہلاکت کی گھڑی، یا وہ خاص گھڑی جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔“ ( تفسیر کبیر سورۃ الحج، زیر آیت إِن زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ جلد 4 صفحہ ۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں آیا ہے: اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٍ عَظِيمٌ (الحج: ۲) ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی۔ ہم کو اس سے انکار نہیں، مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے۔ کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یک دفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔ گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے۔ اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں۔“ ( ملفوظات، جلد اول صفحه (۴۰۳)