صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 309
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۰۹ - كتاب الرقاق يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ ہو۔ فرمایا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ وہ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سَكْرَى وقت ہو گا جب بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور ہر ایک وَمَا هُمْ بِسَكْرَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ حمل والی اپنے حمل کو گرادے گی اور تو لوگوں کو شَدِيدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مدهوش دیکھے گا اور وہ مد ہوش نہیں ہوں گے۔ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ بلکہ اللہ کا عذاب ہی سخت ہو گا۔ (یہ سن کر) ان أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا پر شاق گزرا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! ہم میں سے وہ کون شخص ہو گا؟ آپ نے فرمایا: تم خوش وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي رہو کہ یا جوج ماجوج میں سے ہزار دوزخ میں بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ جائیں گے اور تم میں سے ایک ۔ پھر فرمایا: اس أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي میں اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تہائی تم ہو لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ گے۔ حضرت ابو سعید کہتے تھے: ہم نے اللہ کا إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ شکر کیا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے فرمایا: اسی الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ۔ میں اُمید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں آدھے تم ہو۔ تمہاری مثال تمام اُمتوں کے مقابل میں ایسی ہے أطرافه: ٣٣٤٨، ٤٧٤١ ، ٧٤٨٣۔ جیسے سفید بال سیاہ بیل کے جسم میں یا جیسے گدھے کی اگلی ٹانگ میں داغ ہوتا ہے۔ تشريح : إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٍ عَظِيمٌ (الحج :٢) اللہ عز وجل کا فرمانا: اس گھڑی کی باچل بہت ہی بڑی مصیبت ہو گی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: السَّاعَةُ : جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاء الزَّمَانِ۔ زمانہ کے حصوں میں سے ایک حصہ جسے ہم گھڑی یا کچھ وقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ وَيُعَبِّرُ بِهِ عَنِ الْقِيَامَةِ۔ اور ساعت کے