صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 308
صحیح البخاری جلد ۱۵ فرمایا: ۳۰۸ ۸۱ - كتاب الرقاق تخفیف دی جائے۔یہ معرفت کی باتیں ہوتی ہیں جہنم سے نکلیں گے۔مگر یہ نہیں لکھا کہ بہشت میں مومنین کی طرح ان کو بھی حصہ ملے گا ہاں ان کے ماتھے پر دوزخ کا نشان ہو گا۔بہشت میں بھی ہر روز ایک تجدد ہوتارہے گا اسی طرح دوزخیوں پر بھی لکھا ہے بَدَا لَنَهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا (النساء : ۵۷) مگر خدا کا تجد دبے پایاں ہے جو نہیں ہو گا خدا کے کاموں میں انتہا نہیں۔فرماتا ہے: وَلَدَيْنَا مَزِيدُ (ق: ۳۶) یعنی زیادتی ہوتی رہے گی۔“( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۳۶تا۶۳۹) باب ٤٦ : قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٍ عَظِيمُ (الحج : ٢) اللہ عزوجل کا فرمانا: اس گھڑی کی ہلچل بہت ہی بڑی مصیبت ہو گی ازِفَتِ الْأَرْفَةُ O (النجم : ٥٨) اقْتَرَبَتِ ارْفَتِ الْأَرْفَةُ یعنی وہ گھڑی قریب آن پہنچی۔: السَّاعَةُ۔٦٥٣٠ : حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۶۵۳۰: یوسف بن موسیٰ (قطان) نے مجھ سے حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي بیان کیا کہ جریر ( بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو صالح سے، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوصالح نے حضرت ابوسعید (خدری) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ يَقُولُ اللَّهُ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ قَالَ وسلم نے فرمایا: اللہ فرمائے گا: اے آدم ! اور وہ کہیں گے حاضر ہوں جو ارشاد ہو بجالانے کے يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا لئے تیار ہوں اور ساری بھلائی تیرے ہاتھوں میں بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِ أَلْفِ تِسْعَ ہے۔آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دوزخ کا مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَذَاكَ حِينَ ایک گروہ نکال۔آدم کہیں گے دوزخ کا گروہ کتنا