صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 307
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۰۷ ۱ - کتاب الرقاق چھکڑوں پر یہ اسباب آیا تھا اور ان کا مصالحہ کہاں سے آیا تھا یہی ماننا پڑے گا اور پڑتا ہے کہ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (يس: ۸۳) پھر ہم کو ایسا ہی ماننا چاہئے کہ قیامت کے روز سب کا ایک دم مقابلہ کرا دے گا اور جن حسرتوں میں مومن مر گئے تھے اور ان کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے مخالفوں کا کیا حال ہو وہ ان کو دکھلا دیا جائے گا کہ دیکھو اے راست باز بند و! یہ منکرین کا حال ہے تب ان راستبازوں کو لذت آوے گی پس خدا کو ہم مان ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کو صاحب مقدرت کلی نہ مان لیں پہلے اس کے کاموں کو دیکھو ہم سب کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا کوئی فاعل ہے پھر کیا وجہ کہ ایک حصہ میں اس کو ماننا اور ایک حصہ میں اس کا انکار کرنا اور شبہات میں پڑنا۔یا تو پہلی دفعہ ہی انکار کرنا چاہئے یا بکلی ماننا چاہئے خدا کی صفات اور کام غیر محدود ہیں کیا دنیا کی ہزار ہا مخلوق اس بات کی کافی دلیل نہیں کہ خدا بڑا قوی خدا ہے۔اسی طرح پوچھا گیا کہ کیا کہ حشر کو جسم ہو گا یا نہیں اور یہی جسم ہو گا یا کوئی اور ؟ اس پر فرمایا : حشر میں جسم دیئے جائیں گے یہ نہیں کہ یہی ہو گا یا کوئی اور۔یہ مانی ہوئی بات ہے کہ تین سال کے بعد پہلا انسانی جسم ضائع ہو جاتا ہے اور اس کا قائم مقام نیا آجاتا ہے پھر ہمارا ایمان ہے کہ ایک بدن ملے گا مگر جس طرح اس علیم کے علم میں ہے ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ اسے دیدے اور اس کے سوا اور جسم بھی عطا کرے سوائے ذات باری کے کسی کی یہ صفت نہیں کہ ہمیشہ ابدی رہے اور یہ طاقت خدا ہی انسان کو دے گا کہ پھر وہ ابدی بن جاوے۔پھر سوال کیا۔کیوں یہ مرتبہ صرف انسان کو ہی ملے گا اور حیوانات کو نہیں دیا جائے گا؟ فرمایا: اس پر ہم جھگڑ نہیں سکتے جیسے ایک شخص سخاوت کرتا ہے ایک فقیر کو وہ پیسہ دیتا ہے اور دوسرے کو روپیہ۔مگر جس کو پیسہ ملا ہے وہ حق نہیں رکھتا کہ جھگڑ اکرے بہشت والوں کو تو ابدی رہنا ہو گا اور حدیثوں میں بھی آیا ہے کہ دوزخی ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے۔جیسے فرمایا: يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانُ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌد کیونکہ وہ بھی آخر خدا کے ہاتھ کے بنے ہوئے ہیں ان پر کوئی زمانہ ایسا آنا چاہئے کہ ان کو عذاب کی