صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 306 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 306

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱ - کتاب الرقاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس دن اگلے پچھلے سب انسانوں کو جمع کیا جائے گا۔حشر کا لفظ اس اجتماع کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو نبیوں کے ذریعہ سے اس دنیا میں ہوتا ہے یعنی ساری قوم کو اختلاف اور جھگڑے سے نکال کر وحدت کی رسی میں پرو دیا جاتا ہے۔کوئی نبی نہیں آیا جس کے ذریعہ سے حشر نہ ہوا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں دیکھو کیسا حشر ہوا کہ مختلف الخیال لوگوں کو ایک کلمہ پر جمع کر دیا گیا اور پھر ساری دنیا میں پھیلا دیا گیا۔“ ( تفسير كبير ، سورة الحجر ، زیر آیت وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ۔۔جلد ۴، صفحه ۵۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حشر بعد الموت مذہبی امور میں یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔اس دنیا میں تو اختلاف کبھی سنتا نہیں۔ہمیشہ ہی بعض لوگ مدعیان نبوت کے منکر ہوتے ہیں اور بعض مومن۔اگر اسی دنیا تک انسانی زندگی ختم ہو جائے۔تو اول تو نبی کے دعویٰ کے متعلق کامل انکشاف نہ ہو اور اس کا امر مشتبہ رہے دوسرے وہ طبقہ جو منکر ہے وہ ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم رہ جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔اس نے تو سب انسانوں کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔اگر اسی دنیا میں انسانی زندگی ختم ہو جائے تو پھر منکر کبھی عبد نہیں بن سکتے۔اس لئے ضرور ہے کہ ایک اور زندگی انسان کو ملے۔جس میں حقیقت واضح کر دی جائے تا سب لوگوں پر حقیقت کھل جائے اور جو اس دنیا میں حق کے سمجھنے سے محروم رہے ہیں اس دنیا میں حق کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورة النحل، زير آيت لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيْهِ۔۔جلد ۴ صفحه ۱۶۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے ایک عرب صاحب نے سوال کیا کہ قیامت کے دن لوگ جس طرح مرتے ہیں اسی طرح اول و آخر نمبر وار حاضر ہوں گے یا ایک دم تمام متقدمین و متاخرین اکٹھے اٹھیں گے۔فرمایا : الگ الگ ثابت نہیں سب اکٹھے اٹھیں گے مانا پڑتا ہے کہ ہمارا خد ابڑا قادر ہے دیکھو نطفہ کیا چیز ہے اور پھر اس سے کس طرح انسان کامل بن جاتا ہے ہر شخص جو خدا کو مانے والا ہے سورج چاند وغیرہ اجرام کو دیکھ کر کیا وہ بتلا سکتا ہے کہ کن