صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 305
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۰۵ ۱- کتاب الرقاق جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ كَمْ سے کہا جائے گا یہ تمہارے بابا آدم ہیں اور وہ أُخْرِجُ فَيَقُولُ أَخْرِجْ مِنْ كُلِ مِائَةٍ کہیں گے۔میں حاضر ہوں اور جو ارشاد ہواس تِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ کے بجالانے کے لئے تیار ہوں۔تو اللہ فرمائے إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ گا۔اپنی ذریت میں سے جہنم کا ایک گروہ نکال۔وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ إِنَّ آدم کہیں گے: اے رب ! کتنے نکالوں؟ اللہ تعالیٰ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فرمائے گا۔ننانوے فیصد۔صحابہ نے (یہ سن کر) کہا: یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے نانوے فیصد کو نکال لیا گیا تو پھر ہم میں سے کیا رہ جائے گا؟ آپ نے فرمایا: میری اُمت دوسری امتوں کے مقابل فِي التَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔ایسی ہے جیسے سفید بال سیاہ بیل میں۔تشریح گیف الحظر : حشر کیسے ہو گا؟ حشر کیا ہے اور لوگوں کا حشر کیسے ہو گا۔زیر باب روایات میں جو یہ ذکر ہے کہ لوگ ننگے بدن ننگے پاؤں بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جائیں گے۔یہ سب امور تمثیل کے طور پر بیان کیے گئے ہیں یہ غیب کی وہ ساری باتیں ہیں جن کی حقیقت مادی وجود دمادی آنکھوں سے دیکھی اور سمجھی نہیں جاسکتی۔مگر انسانوں کو سمجھانے کے لیے ان کی زبان اور فہم کے مطابق بتایا گیا ہے۔اصل بات وہی ہے جو قرآن کریم نے فَلَا تَعلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُم مِّن قَرَةِ أَعْيُنِ (السجدة :۱۸) اور (حقیقت یہ ہے کہ) کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان (مومنوں) کے لیے کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اور حدیث میں أَعْدَدْتُ لِعِبَادِى الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْن رَأَتُ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشير - میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔پس مادی آنکھوں سے ان امور کو دیکھنا اور جسمانی حواس سے ان کو پر کھنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ اخروی دنیا کی باتیں ہیں جو روحانی جو اس سے سمجھی جاسکتی ہیں تا ہم جن لوگوں کو روحانی آنکھ نصیب ہوتی ہے وہ ان روحانی امور کو اس دنیا میں ہی کسی قدر دیکھ اور سن لیتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: حشر کے معنے جمع کرنے کے ہیں اور حشر انہی معنوں کے رو سے بعث مابعد الموت (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب مَا جَاءَ في صفة الجنّة، روایت نمبر ۳۲۴۴)