صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 298
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۸ ۸۱- كتاب الرقاق وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا في صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ۔ اللہ اپنی قدرت سے زمین کو سمیٹ لے گا اور آسمان کو لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ أطرافه: ٤٨١٢، ۷۳۸۲، ٧٤١٣۔ ہوں اب زمین کے بادشاہ کہاں ہے۔ ٦٥٢٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۶۵۲۰: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے خالد (بن یزید) سے، بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے زید عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے ، عطاء نے الْخُدْرِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز زمین خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ ایک روٹی کی طرح ہموار یکساں) ہو جائے گی۔ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ وہ جبار ذات اپنے ہاتھ سے اس کو الٹ پلٹ کر برابر کر دے گی۔ اسی طرح جس طرح تم میں نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو اُلٹ پلٹ کر ہموار کیا بنا دیتا ہے۔ تاکہ جنتیوں کے لئے (ایسی) قیام گاہ أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزْلِ أَهْلِ ہو ( جس میں ان کی تمام کھانے پینے کی ضروریات الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلَى قَالَ با فراغت ہوں۔) اتنے میں ایک یہودی شخص آیا، تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ کہنے لگا: ابو القاسم ! رحمن آپ کو برکت دے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ میں آپ کو نہ کو نہ بتاؤں کہ قیامت کے روز جنتیوں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ثُمَّ کے لئے کیا کچھ مہمانی کا سامان ہو گا؟ آپ نے ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ فرمایا: کیوں نہیں ضرور بتاؤ۔ اس نے کہا: زمین أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ إِدَامُهُمْ روٹی کی طرح ہموار یکساں ہو گی۔ اسی طرح بتایا بَالَامٌ وَنُونٌ قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ نبی