صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 297
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۷ ۸۱ - كتاب الرقاق یہ مطلب نہیں تھا کہ دوسری رعایا، رعایا کے دوسرے لوگوں کے، ان کے جذبات کا خیال نہ رکھا جائے۔ قرآن کریم کی اس گواہی کے باوجود کہ آپ تمام رسولوں سے افضل ہیں ، آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ انبیاء کے مقابلہ کی وجہ سے فضا کو مکدر کیا جائے۔ آپؐ نے اس یہودی کی بات سن کر مسلمان کی ہی سرزنش کی کہ تم لوگ اپنی لڑائیوں میں انبیاء کو نہ لایا کرو۔ ٹھیک ہے تمہارے نزدیک میں تمام رسولوں سے افضل ہوں۔ اللہ تعالٰی بھی اس کی گواہی دے رہا ہے لیکن ہماری حکومت میں ایک شخص کی دل آزاری اس لئے نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے نبی کو کسی نے کچھ کہا ہے۔ اس کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔ میرا احترام کرنے کیلئے تمہیں دوسرے انبیاء کا بھی احترام کرنا ہو گا۔ تو یہ تھے آپ کے انصاف اور آزادی اظہار کے معیار جو اپنوں غیروں سب کا خیال رکھنے کیلئے آپ نے قائم فرمائے تھے۔ بلکہ بعض او اوقات غیروں کے جذبات کا زیادہ: ت کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۰ ار مارچ ۲۰۰۶ء جلد چہارم صفحه ۱۳۹، ۱۴۰) بَاب ٤٤ : يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللہ قیامت کے دن زمین کو سمیٹ لے گا رَوَاهُ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ اس کو نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے ، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ٦٥١٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ۶۵۱۹: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس (بن الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي يزيد) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سے، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زہری نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ سعید بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ مسیب نے مجھ سے بیان کیا، سعید نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْبِضُ اللهُ الْأَرْضَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے