صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 296
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱- کتاب الرقاق مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَمَا أَدْرِي که موسی عرش کو تھامے ہوئے ہیں۔میں نہیں جانتا أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ کہ آیا وہ اُن لوگوں میں تھے جو بے ہوش عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ہوئے؟ حضرت ابو سعید نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا۔أطرافه: ٢٤١١ ، ٣٤٠٨، ٣٤١٤، ٤٨١، ٦٥١٧ ٧٤٢٨ ٧٤٧٢۔ریح : نفح الصور اللي صور قرآن کریم نے نفخ صور کے حوالہ سے فرمایا ہے : و نفخ في الصور فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ (الزمر: (19) اور بنگل میں پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اس پر ایک بے ہوشی طاری ہو جائے گی۔صور پھونکے جانے سے مراد ہے تمثیلی طور پر دنیا کے خاتمہ کے اعلان کی صورت ہے آخرت کے امور کو ظاہر پر حمل نہیں کیا جاسکتا نہ مادی چیزوں سے اسے تشبیہ دی جا سکتی ہے مگر انسان کو اس کی زبان اور فہم کے مطابق بتایا گیا ہے کہ جیسے سب کو اکٹھا کرنے کے لیے کوئی بگل بجایا جاتا ہے اسی طرح انسانی زندگی کے خاتمہ اور قیامت کے برپا ہونے کو بگل میں پھونکے جانے کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے مگر یہ لفظ صرف قیامت کے لیے استعمال نہیں ہو تا بلکہ دنیا میں بھی انبیاء کی بعثت کے ساتھ ایک قسم کا احیاء ہوتا ہے اس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے: نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گذر گیا ہے مگر کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی مہدی اور مجدد کو بھیج کر ہدایت کی صور پھونکی جائے اور ضلالت کے مردوں میں پھر زندگی کی روح پھونک دی جاوے کیونکہ نفخ صور صرف جسمانی احیاء اور امانت تک محدود نہیں ہے بلکہ روحانی احیاء اور امانت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے۔“ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۰) لا تُخَيرُ ونِي عَلَى مُوسی: مجھے موسیٰ سے بہتر قرار نہ دو۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: تو یہ تھا آپ کا معیار آزادی، آزادی مذہب اور ضمیر ، کہ اپنی حکومت ہے ، مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے مدینہ کے قبائل اور یہودیوں سے امن وامان کی فضا قائم رکھنے کیلئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے مسلمانوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یا مسلمانوں کے ساتھ جو لوگ مل گئے تھے ، وہ مسلمان نہیں بھی ہوئے تھے ان کی وجہ سے حکومت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔لیکن اس حکومت کا